تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 426 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 426

تاریخ احمدیت 426 جلد 21 کرتے ہوں، جو صدقہ وزکوٰۃ کی رقم بغیر کسی پس و پیش کے نکالتے ہوں، جولہو ولعب کی زندگی سے متنفر ہوں جو حد درجہ سادہ معاشرت بسر کرتے ہوں، جو کسی وقت بے کا ر زندگی نہ بسر کرتے ہوں، جو ہر وقت ہر انسان کی خدمت کے لئے آمادہ رہتے ہوں، جو صادق القول ہوں، امین ہوں ، عہد و پیمان کے پابند ہوں۔ان کو آپ بُرا کہتے ہیں صرف اس لئے کہ وہ مرزا غلام احمد صاحب کو مہدی موعود سمجھتے ہوں۔حالانکہ جس حد تک روایات کا تعلق ہے وہ میرزا صاحب پر منطبق ہو سکتی ہیں۔آپ آج کل علیل ہیں اس لئے مطالعہ کتب کا وقت آپ کے پاس کافی ہوگا۔اگر نامناسب نہ ہو تو سب سے پہلے میرزا صاحب کی براہین احمدیہ پڑھ ڈالیے اور اس کے بعد ان کی دوسری تصانیف۔آپ پر خود واضح ہو جائے گا کہ میرزا صاحب کتنے بڑے انسان کتنے سخت قائل نبوت تھے اور کیسے کیسے چھوٹے انسانوں نے ان کے بلند کردار پر خاک ڈالنے کی کوشش کی۔مشرقی پاکستان میں مرکزی وفد اس سال وسط اپریل 1962ء میں مرکز احمدیت ربوہ سے ایک خصوصی مرکزی وفد مشرقی پاکستان میں بھجوایا گیا جو مندرجہ ذیل ارکان پر مشتمل تھا۔1 - صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلی تحریک جدید (امیر وفد ) 2 مولانا جلال الدین صاحب شمس سابق مجاہد بلا دعر بسیه و انگلستان -3- میاں عبد الحق صاحب رامه ناظر بیت المال ربوه -4 چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ناظر اصلاح وارشاد۔5- میرسید داؤ داحمد صاحب صدر خدام الاحمدیہ مرکزیہ۔6-صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد وقف جدید۔60 7- حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری (رفیق خاص مسیح موعود ) صدر نگران بورڈ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس وفد کی روانگی پر اسکی بنیادی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرمایا:- اس سال کی مجلس مشاورت میں فیصلہ ہوا تھا کہ چونکہ مشرقی پاکستان کی جماعتیں دُور کے علاقہ کی جماعتیں ہونے کی وجہ سے اس بات کی زیادہ حقدار ہیں کہ ان کے ساتھ مرکزی کارکن زیادہ سے زیادہ رابطہ قائم رکھیں اور سال میں کم از کم دو وفد مشرقی پاکستان