تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 427
تاریخ احمدیت 427 جلد 21 بھیجوا کر وہاں کے حالات کا جائزہ لیتے رہیں (اور دراصل یہ فیصلہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت پر مبنی تھا اسلئے صدر انجمن احمد یہ ربوہ نے اس سال ماہ رواں کے وسط میں مشرقی پاکستان میں دو ناظروں کے بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔یعنی چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ناظر اصلاح وارشاد اور میاں عبد الحق صاحب رامہ ناظر بیت المال اور دوران اجلاس میں خاکسار کے مشورہ پر اس وفد میں مولوی جلال الدین صاحب شمس ممبر صدر انجمن احمدیہ کے نام کا بھی اضافہ کیا گیا سوان تین ارکان کا وفد صدرانجمن احمد یہ ربوہ کی طرف سے بہت جلد مشرقی پاکستان روانہ ہو جائے گا اور ڈھاکہ کے اس اجتماع میں بھی شرکت کرے گا جو بنگال کے دوستوں کا وسط اپریل میں منعقد ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ انہی ایام میں گو غالباً سفر کے آغاز کے لحاظ سے ایک دو دن بعد مرکزی کارکنوں کا ایک دوسرا وفد بھی مشرقی پاکستان کی طرف روانہ ہورہا ہے جس میں عزیز مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ تحریک جدید اور عزیز مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد وقف جدید اور عزیز میر داؤ داحمد صاحب صدر خدام الاحمدیہ مرکز یہ شریک ہوں گے اس طرح یہ وفد مجموعی طور پر چھ ارکان پر مشتمل ہوگا اور مشرقی پاکستان کی تبلیغی اور تربیتی اور تنظیمی اور مالی ضروریات کا جائزہ لیکر مرکز میں رپورٹ کرے گا اور اپنی نگرانی میں حسب حالات مشرقی بنگال کے مرکزی عہدیداروں کا انتخاب بھی کروائے گا اور مشرقی پاکستان کے دوستوں کو ان کی پیش آمدہ ضروریات اور مشکلات کے متعلق مشورہ بھی دے گا۔اس کے علاوہ انہی ایام میں مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری رفیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی پیشکش کی ہے کہ وہ اپنے خرچ پر مشرقی پاکستان تشریف لے جا کر دوستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات سنائیں گے۔66 وفد کی کامیاب دینی سرگرمیاں اس وفد کی پہلی پارٹی 12 اپریل کو اور دوسری 14 اپریل کو پہنچی۔وفد کا یہ دورہ بہت کامیاب رہا۔وفد کے ممبران نے زیادہ سے زیادہ مقامی احباب سے رابطہ پیدا کرنے کیلئے احمدی جماعتوں کی سالانہ کانفرنس منعقدہ دار التبلیغ ڈھا کہ مورخہ 14، 15 اپریل) اور اسکی شورٹی میں شرکت کی اور احباب سے پر اثر خطاب کیا۔اس کے بعد وفد نے مختلف جماعتوں کا دورہ کیا اور تیرہ مختلف جماعتوں کے حالات کا