تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 425 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 425

تاریخ احمدیت 425 جلد 21 صاحب کا مخالف ہے۔لیکن جب میں نے خود اس جماعت کے لٹریچر اور اس کے عملی پہلو کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ مخالفت محض بر بنائے عصبیت ہے اور جو الزامات میرزا صاحب موصوف پر قائم کئے جاتے ہیں ان میں صداقت کا شائبہ تک نہیں۔سب سے بڑا الزام ان پر یہ عائد کیا جاتا ہے کہ وہ ختم نبوت کے قائل نہ تھے حالانکہ اس سے زیادہ لغو ولا یعنی الزام کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔وہ یقینا ختم نبوت کے قائل تھے اور غالبا اس شغف وشدت کے ساتھ جو ایک سچے عاشق رسول میں پایا جانا چاہیے۔وہ اپنے آپ کو بر بنائے تقلید نبوی، رسول کا سایہ اور اسوہ نبوی کا مظہر ضرور قرار دیتے تھے۔سو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہر شخص جو رسول اللہ کی زندگی کو سامنے رکھ کر اس کی تقلید کرے وہ ”ظل نبوی“ کہلایا جائے گا اور اگر میرزا صاحب نے عملاً اس کو کر دکھایا تو وہ یقینا ظل نبو سی بھی تھے اور بروز اسوہ رسول بھی۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ لوگ نہ احمدی جماعت کے لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ اُن کے کارناموں کو دیکھتے ہیں اور محض سنی سنائی باتوں پر اعتماد کر کے اس کی طرف سے بدظن ہو جاتے ہیں۔کس قدر عجیب بات ہے کہ مخالفین احمدیت بھی اس کی تنظیم اور اس کی وسعت تبلیغ کے قائل ہیں (جن سے دجال کے دور افتادہ علاقوں میں بھی اسلام کی حقیقت لوگوں پر واضح ہوتی جارہی ہے ) لیکن جس وقت سوال میرزاغلام احمد صاحب کے عقائد وکردار کا آتا ہے تو وہ چراغ پا ہو جاتے ہیں۔محض اس لئے کہ ان کے زمانہ میں چند سر پھرے مولویوں نے بر بنائے رشک اپنی نا اہلیت چھپانے کے لئے مرزا صاحب موصوف کو بُرا بھلا کہنا شروع کیا تھا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مرزا صاحب نے 86 سے زیادہ کتابیں اپنی مختصر عمر میں لکھیں اور ان سب کا مقصود صرف یہ تھا کہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کو صحیح معنی میں پیش کریں اور مسلمانوں کی ایک باعمل جماعت دنیا میں پیدا کر سکیں سو آپ خود غور کیجئے کہ ان کے مخالفین دس آدمیوں کی بھی کوئی جماعت پیدانہ کر سکے اور مرزا صاحب کی تعلیم کے زیر اثر آج دنیا کے ہر گوشہ میں لاکھوں انسان تعلیم اسلام سے روشناس ہو چکے ہیں اور اس قدر پابندی سے احکام اسلام کے متبع ہیں کہ مجھے تو اس کی مثال کسی بڑے سے بڑے عمامہ بند مولوی میں بھی نہیں ملتی۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مذہب اسلام کوئی خیالی مذہب نہ تھا اور نہ اس کی بنیاد کسی ذہنی فلسفہ پر قائم تھی بلکہ وہ یکسر عمل ہی عمل تھا اور احمدی جماعت نے اس عملی پہلو کو سامنے رکھ کر اپنی جماعت میں ایک ایسی نئی روح پھونک دی جس کی مثال ہمیں کسی دوسری مسلم جماعت میں اس وقت نہیں ملتی۔کس قدر تعجب کی بات ہے کہ وہ افراد جو نماز با جماعت کے پابند ہوں، جو ایام صیام کا پورا احترام