تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 34
تاریخ احمدیت 34 جلد 21 فنڈ تر (MR T۔M۔FUNDTER) کا نام تجویز کیا۔سب سے پہلے تلاوت قرآن پاک ہوئی جس کی خاکسار کو توفیق ملی۔بعد ازاں صاحب صدر نے تلاوت شده و دیگر منتخب شدہ آیات قرآنیہ کا ترجمہ پڑھ کر سنایا۔اور بیان کردہ مضامین کی طرف توجہ دلائی۔اس کے بعد سب سے قبل ہمارے ڈچ نو مسلم مسٹر عبدالرحمن صاحب (MAR۔STEENHAUWER) نے وہ مضمون پڑھ کر سنایا جو مکرم جناب حافظ صاحب نے اس موقع کے لئے خاص طور پر تیار کر کے ایک خوشنما ٹائیٹل پیج کے ساتھ جس پر منارة امسیح اور مسجد اقصیٰ کی تصویر بھی ہے طبع کرایا ہوا تھا۔اس کا ترجمہ انشاء اللہ کسی وقت ہدیہ ناظرین کیا جائے گا۔آپ کے بعد ہمارے علم دوست فلاسفر ڈاکٹر دی سنگ (DN DEJONG) جو اگر چہ غیر مسلم ہیں مگر اسلام کو منصفانہ نظر سے دیکھتے ہیں نے تقریر فرمائی۔آپ نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ جماعت احمدیہ کے مبلغین نہ صرف اسلام ہی سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں بلکہ عیسائیت اور بائیبل کی تعلیمات کا بھی خوب مطالعہ کئے ہوئے ہیں۔آپ نے کہا کہ میرے نزدیک اسلام کی رواداری کے ثبوت میں یہی ایک دلیل کافی ہے۔کیونکہ جب تک دوسرے کے خیالات کا از خود مطالعہ نہ کیا جائے کسی صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچا جا سکتا۔آپ نے کہا کہ محض تعصب کی وجہ سے دوسرے مذاہب کا از خود مطالعہ نہ کرنا رواداری کے سراسر منافی ہے۔آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے اسلام کے متعلق اس غلط خیال کی پر زورتر دید فرمائی کہ اسلام کو بزور شمشیر پھیلا ہوا کہا جاتا ہے۔اس کے ثبوت میں آپ نے قرآن مجید کی ان متعدد آیات کو پیش فرمایا کہ جن میں صاف طور پر بیان ہے کہ دین کے بارہ میں کوئی جبر و اکراہ نہیں اور یہ کہ ہر شخص کو اپنے عقائد کے اظہار کی پوری آزادی ہے۔نیز آپ نے ان آیات کے اعلیٰ ادبی معیار سے بھی حاضرین کو محظوظ فرمایا۔واضح رہے کہ ڈاکٹر موصوف اس کمیٹی کے ممبران میں سے ایک ہیں جس کے ذریعہ قرآن کریم کا ڈچ ترجمہ تیار کیا گیا تھا۔آپ کی تقریر کے بعد ہمارے ایک دوسرے غیر مسلم دوست مصنف (M۔V HOVACK) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کچھ عرصہ ہوا آپ نے قرآن مجید پر بھی ایک کتاب لکھی تھی۔جس میں آپ نے لکھا تھا کہ یہ ایسی کتاب ہے کہ جو اپنی دلکش اور مفید تعلیمات کی وجہ سے اس قابل تھی کہ ہر جگہ شہرت پاتی۔مگر مغربی دنیا میں تعصب کی وجہ سے یہ کتاب گمنامی میں ہی رہی اور اس سے کما حقہ استفادہ کی کوشش نہ کی گئی۔آپ نے اپنی تقریر میں کہا اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ آج تیرہ سوسال