تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 33
تاریخ احمدیت 33 جلد 21 جو اپنے علم وفضل اور دیگر ذرائع سے مشن کے کام میں ممد و معاون ثابت ہوئے۔اس جلسہ میں متعدد علم دوست حضرات اور اسلام میں دلچسپی رکھنے والے احباب کو مدعو کیا گیا۔چنانچہ اہل ہالینڈ نے خاص دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کثرت کے ساتھ شمولیت کی۔ہیگ شہر سے پروفیسر، ڈاکٹر ، وکلاء و دیگر قریباً ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوئے۔اس کے علاوہ ہالینڈ کے دوسرے متعدد شہروں سے بھی کثیر تعداد نے شرکت کی۔چنانچہ ایمسٹرڈم ، اور ڈم، زند فورٹ ، اسد ورپ، نورد و یک، ہاردر و یک، الکمار، لائیڈن، واسنار، ڈیلفٹ، فلارد نگن، ڈنڈ واڈر وغیرہ سے متعددا حباب تشریف لائے۔ہالینڈ کے صوبہ فریس لینڈ جو کہ ہیگ سے بہت دور ہے اور بذریعہ گاڑی کئی گھنٹوں کا راستہ ہے چند دوست ہمارے اس جلسہ میں شمولیت کی غرض سے تشریف لائے۔مقامی احباب کے علاوہ بہت سے غیر ملکی معزز مہمانوں نے بھی شامل ہوکر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔چنانچہ پاکستان، افریقہ، متحدہ جمہوریہ عرب، انڈونیشیا، سرینام اور آسٹریا کے دوست بھی موجود تھے۔جس سے اسلامی اخوت اور برادری کی فوقیت ظاہر ہوئی۔جلسہ کی اطلاع دیگر دوستوں کو بھجوانے کے علاوہ ہالینڈ کے اخبارات کو بھی بھجوائی۔چنانچہ جلسہ کے دن متعد دنمائندگان پر لیس حاضر تھے۔جلسہ کا آغاز مکرم انچارج صاحب مشن برادرم حافظ قدرت اللہ صاحب کی تقریر سے ہوا۔آپ نے جملہ حاضرین کرام کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان پر اس موقع کی اہمیت کو واضح فرمایا۔آپ نے کہا آج کا دن جماعت احمدیہ کی تبلیغی تاریخ میں ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس عرصہ میں جماعت کو بفضلہ تعالٰی اسلام کے متعلق پھیلی ہوئی بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی توفیق ملی ہے۔آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ اسلام ہی وہ یگانہ مذہب ہے جو اپنی سنہری تعلیمات کے ذریعہ اس کرہ ارضی پر ایک ایسی برادری اور بھائی چارہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ جس میں مختلف ملکوں اور نسلوں کو اکٹھا کیا جاسکے اور جس میں سفید وسیاہ ہر دو صحیح معنوں میں زندگی کی بیش بہا نعمتوں سے متمتع ہوسکیں۔نیز جس سے مشرق و مغرب میں ایک دوسرے کو سمجھنے کی حقیقی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔آپ نے فرمایا یہی وہ عظیم الشان مقصد ہے جسے مدنظر رکھ کر جماعت احمد یہ اپنی کم مائیگی وبے سروسامانی کے باوجود تن تنہا کوشاں و مصروف ہے۔آپ نے حاضریں کو یقین دلایا کہ اس نظریاتی دور میں آخر کار اسلام ہی کی فتح ہوگی اور اس کی تعلیمات کا بول بالا ہوگا۔آپ نے ان تعارفی کلمات کے بعد اس جلسہ کی صدارت کے لئے ایک ڈچ نومسلم مسٹر