تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 392
تاریخ احمدیت 392 جلد 21 ایک وقت میں بڑی سے بڑی رقم تو اُن کی طرف سے سلسلہ کو تیرہ ہزار کی ملی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ متواتر سلسلہ کی خدمت میں اُن کا نمبر غالبا سب سے بڑھا ہوا ہے، اُن کی مالی حالت میں جانتا ہوں ایسی اعلیٰ نہیں جیسی کہ بعض لوگ اُن کی امداد کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں لیکن اُن کو خدا تعالیٰ نے نہایت پاکیزہ دل دیا ہے اور مجھے اُن کی ذات پر خصوصاً اس لئے فخر ہے کہ ان کے سلسلہ میں داخل ہونے کے وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے اُن کے اخلاص کے متعلق پہلے سے اطلاع دی تھی۔حالانکہ میں نے اُن کو دیکھا بھی نہ تھا۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ سلسلہ کے درد میں اسقدر گداز ہیں کہ مجھے ان کی قربانی کو دیکھ کر رشک آتا ہے اور میں اُن کو خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتا ہوں کاش کہ جماعت کے دوسرے دوست اور خصوصاً تاجر پیشہ اصحاب اُن کے نمونہ پر چلیں اور اُن کے رنگ میں اخلاص دکھا ئیں تو سلسلہ کی مالی تنگیاں بھی کا فور ہو جائیں اور خدا کی برکات بھی جو قربانیوں پر نازل ہوتی ہیں خاص طور پر نازل ہوں۔11 ملک صلاح الدین صاحب ایم اے تحریر فرماتے ہیں کہ :- مولوی محمد اسمعیل صاحب یادگیری وکیل (مرحوم) نے آج سے قریباً اٹھائیس سال پہلے حضرت سیٹھ صاحب کے کھانہ جات کا جائزہ لے کر بتایا تھا کہ بیعت 1915 ءتا 1950ء آپ نے سوا نو لاکھ کے قریب خدمت دین میں صرف کئے۔ان میں سے 1944 ء۔1948 ء و1949 ء تین سالوں میں ایسا انفاق دولاکھ سترہ ہزار کے قریب تھا۔اُن کا جائزہ یہ تھا کہ آپ اپنی آمدنی میں سے صرف دو آنے فی رو پیدا اپنی ذات کے لئے استعمال کرتے ہیں اور چودہ آنے فی روپیہ خدمت دین پر۔جماعت احمدیہ حیدر آباد دکن کو ایسی کوئی جگہ میسر نہ تھی جہاں تقاریر اور اجلاس کئے جاسکیں۔حضرت سیٹھ صاحب نے شہر کے ایک با موقعہ مقام پر جو علاقہ افضل گنج میں واقع ہے ایک عالیشان احمد یہ جو بلی ہال تعمیر کرایا جس کا افتتاح 23 اکتوبر 1931 ء کو عمل میں آیا۔حضرت مولوی عبد المغنی خاں صاحب ناظر دعوت و تبلیغ نے اس ہال کی نسبت تحریر فرمایا :- سیٹھ صاحب محترم نے حیدر آباد کے عین مرکز میں ایک شاندار ہال بنوا دیا ہے جو صدرانجمن احمدیہ کی وصیت میں دے دیا گیا ہے۔اس میں لائبریری اور ریڈنگ روم ہے اور وہیں پر ہی جلسے ہوتے ہیں اور یہ سیٹھ صاحب محترم کا صدقہ جاریہ ایسا ہے کہ جماعت