تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 393
تاریخ احمدیت 393 جلد 21 احمدیہ کو ابھی تک ایسی جگہ ہندوستان میں کسی دوسری جگہ میسر نہیں آئی۔13 66 یہ جوبلی ہال جماعت احمدیہ کی دینی اور تبلیغی اور تربیتی سرگرمیوں کا مشہور مرکز بن چکا ہے۔نومبر 1934 ء میں تحریک جدید " جاری ہوئی۔سلسلہ کے جن مخیر بزرگوں نے اس مالی جہاد میں نمایاں اور قابل رشک حد تک حصہ لیا ان میں آپ سر فہرست تھے۔چنانچہ کتاب " تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین‘ (صفحہ 461) کے مطابق آپ کے انیس سالہ چندہ کا میزان-/62065 روپے بنتا ہے۔حضرت سیٹھ صاحب تحریک جدید کے دوسرے مطالبات پر بھی ہمیشہ کار بند رہے اور آپ نے حضرت مصلح موعود کی ہدایت کے مطابق پوری عمر ایک کھانا کھایا حالانکہ دوسروں کے لئے آپ کے دستر خوان پر ہمہ قسم کے لوازمات مہیا ہوتے تھے۔سید نا حضرت مصلح موعود نے مارچ 1932 ء میں فیصلہ فرمایا کہ جماعت سال میں دوبار یوم التبلیغ منائے۔اس فیصلہ کے مطابق پہلا یوم التبلغ 18اکتوبر 1932ء کو منایا گیا۔حضرت سیٹھ صاحب ہمیشہ یہ 16 دن نہایت جوش و خروش سے منایا کرتے تھے۔چنانچہ مولانا عبدالمالک خاں صاحب ناظر اصلاح وارشاد کا بیان ہے کہ :- حضرت اصلح الموعود کی طرف سے جب یہ اعلان ہوا کہ احباب جماعت یوم تبلیغ منایا المصلح: کریں تو دیکھا گیا کہ سیٹھ صاحب ٹریکٹ لے کر بس سٹاپ پر جا کھڑے ہوتے اور ایک بس سٹاپ سے دوسرے بس سٹاپ تک تقسیم کراتے اور یہ اندازہ فرما لیتے کہ جس کوٹریکٹ دیا گیا ہے وہ اس کا مطالعہ کرے گا۔وہ شخص جو موٹرنشین تھا اپنے امام کی آواز پر لبیک کہنے اور اپنے جذ بہ تبلیغ کی تسلی کے لئے اپنے آرام کو یوں قربان کر دیا کرتا تھا۔ان کی اس خوبی نے اپنے پرائے سب کو متاثر کیا۔اکتوبر 1938 ء میں حضرت مصلح موعود نے حیدر آباد دکن کا تاریخی سفر کیا اور روانگی سے قبل حضرت سیٹھ صاحب کو دو پرائیویٹ خطوط رقم فرمائے ، جن میں سفر کی اطلاع دیتے ہوئے بعض ضروری ہدایات دیں۔آپ نے ان ہدایات کی روشنی میں سفر کو زیادہ سے زیادہ مفید اور خوشگوار بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جس پر حضور نے اظہار خوشنودی فرمایا اور واپسی پر آپ کے نام ایک مکتوب میں لکھا۔حیدر آباد دیکھنے کا مدت سے شوق تھا لیکن جو لطف اس سفر میں رہا۔اس کا اندازہ پہلے نہ تھا۔ہر طرح آرام اور خوشی سے یہ سفر ہوا جس میں بہت سا حصہ آپ کے اور آپ کے اہل خانہ کے اخلاص اور محبت کو حاصل تھا۔