تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 391 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 391

تاریخ احمدیت 391 جلد 21 اپنے لیکچر کے ذریعے ایسے زبر دست فطری جذبات کو اس طرح عام فہم مثالوں میں کبھی نہ بیان کرسکتا کہ جس طرح سیٹھ صاحب نے ادا کیا ہے۔لیکچر کیا تھا دعوت حق کا ایک زبر دست پیغام تھا۔شروع 1923ء میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے سکندر آباد میں احمدیت کے مخالف تقریر کی۔حضرت سیٹھ صاحب نے اُن کے نام کھلا اشتہار دیا کہ اگر وہ ایک جلسہ میں اپنے عقائد پر مجوزہ عبارت میں مؤکد بعذاب قسم اٹھا ئیں تو ان کو اسی وقت پانچصد روپیہ دوں گا اور اگر وہ ایک سال تک سلامت رہے تو انہیں مزید دس ہزار روپیہ پیش کیا جائے گا۔اس کے بعد آپ نے انکو ایک اور چیلنج یہ دیا کہ وہ جلسہ میں یہ حلف اٹھائیں کہ میں نے مرزا صاحب کے مضمون ” مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا مرزا صاحب جھوٹے تھے اس لئے خدائی گرفت میں آ کر فوت ہو گئے اور میں حق پر تھا اس لئے زندہ رہا۔اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو اے علیم وخبیر تو مجھ پر موت وارد کر یا ایک سال کے اندر مجھ پر عبرتناک عذاب وارد کر دے۔سیٹھ صاحب نے اعلان فرمایا کہ وہ مولوی صاحب کو یہ حلف اٹھاتے ہی اسی جلسہ میں پانچصد روپے نقد پیش کر دیں گے اور اگر وہ اس کے بعد ایک سال تک زندہ رہے یا کسی عبرتناک عذاب میں (جس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہو ) محفوظ رہے تو اُن کو مزید تین ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔جناب مولوی ثناء اللہ صاحب کو عمر بھر یہ حلف اٹھانے کی جرات نہ ہوئی۔1924 ء سے آپ نے اسلامی اصول کی فلاسفی کے تراجم کی اشاعت کا آغاز فرمایا اور اس سلسلہ میں اس سال سب سے پہلے گجراتی ترجمہ شائع کیا جس کے بعد آپ نے مسلسل کئی سالوں کی محنت و کاوش اور زرکثیر سے انگریزی، ملیالم، تلگو، گورمکھی، ہندی، برمی، کنٹری، چینی اور مرہٹی تراجم چھپوائے۔انگریزی ایڈیشن بارہ دفعہ شائع ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا:- ” میرے مشورہ کے بعد سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کا ترجمہ مختلف زبانوں میں شائع کرنا شروع کیا ہے یہ وہ کتاب ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ سے اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا۔۔۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ ترجمے اپنا اثر پیدا کر رہے ہیں۔جنوری 1926ء میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کی بے مثال مالی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا :- "سلسلہ کی بے نظیر خدمت میں سیٹھ عبد اللہ بھائی صاحب کا مرتبہ سب سے بڑھا ہوا ہے