تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 371 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 371

تاریخ احمدیت 371 جلد 21 منظم اور تربیت یافتہ مبلغین کی کمی تھی اور جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کو دیکھ کر واقعی بہت مسرت ہوتی ہے۔“ ریڈ یو نا نا نے اس خبر کو انگریزی کے علاوہ پانچ مقامی زبانوں میں نشر کیا۔علاوہ ازیں غانا کے ایک کثیر الاشاعت روزنامے میں اس کی اشاعت کی۔اسی طرح مکرم امیر صاحب اور قریشی صاحب نے موریطانیہ کے صدر محمد مختار دادا سے ملاقات کر کے انھیں جماعت کی تبلیغی مساعی سے آگاہ کیا۔اور ان کی خدمت میں عربی و فرانسیسی لٹریچر پیش کیا۔نیز سالٹ پانڈ میں ایک اسٹنٹ ایجو کیشن آفیسر کو بھی امیر صاحب نے لٹریچر پیش کیا۔مکرم امیر صاحب نے میموریل زائن سیکنڈری سکول نیز ایک اور موقع پر 250 عیسائی طلبہ اور 12 اساتذہ کے سامنے تقریر کے بعد سوالوں کے جواب دئے۔نائیجیریا مولوی نیم سیفی صاحب ( رئیس التبلیغ مغربی افریقہ )، مولوی محمد بشیر شاد صاحب اور مولوی بشیر احمد صاحب شمس نے تحریر وتقریر اور پبلک لیکچروں اور نجی ملاقاتوں غرضیکہ ہرضروری طریق سے اشاعت حق کی مساعی پورے ذوق وشوق سے جاری رکھیں اور خدا کے فضل سے 76 سعید الفطرت احباب نے قبول احمدیت کا شرف حاصل کیا۔اور ایک نئی جماعت کا قیام بھی عمل میں آیا۔نومبائعین میں ہاؤ سا قبیلہ کے ایک عالم دین اور اس علاقہ کے حاکم بھی تھے۔جناب نسیم سیفی صاحب نے ریڈ یو نائیجیریا سے ہر ماہ تقاریر فرمائیں۔مولوی محمد بشیر شاد صاحب نے ویسٹرن ریجن اور شمالی نائیجیریا کا تبلیغی دورہ کیا۔JOS میں ڈیڑھ ماہ قیام کر کے دس پبلک لیکچر دئے۔اس علاقہ میں دس افراد داخل احمدیت ہوئے۔آپ نے شمالی نائیجیریا کا بھی دورہ کیا۔جس کے دوران علاقہ KAFANCHAN میں ایک نئی جماعت قائم ہوگئی۔یہاں آپ کے دس روزہ قیام کے دوران 16 احباب حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔بعد ازاں JOS میں آپ نے ڈیڑھ ماہ تک قیام کیا دس لیکچر دیے جن سے متاثر ہوکر 5 نفوس نے خدا کی پاک جماعت میں شمولیت اختیار کی۔مولوی بشیر احمد شاد صاحب نے ویسٹرن ریجن اور مغربی صوبہ کا کامیاب تبلیغی دورہ کر کے بعض چیفس اور ممتاز شہریوں تک دعوت حق پہنچائی۔ابادان میں آپ کا قیام دو ہفتہ رہا جہاں آپ کے تین پبلک لیکچر ہوئے جن میں کثیر تعداد میں سامعین شامل ہوئے اور ایک شخص نے بیعت کی۔ابادان میں موصوف نے