تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 370 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 370

تاریخ احمدیت 370 جلد 21 چیف مشرقی ریجن، بھارتی وزیر خزانہ مرار جی ڈیسائی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے متعدد تبلیغی جلسوں میں لیکچر دیے خصوصا مشرقی غانا کے علاقہ اکرا میں معززین سے نجی ملاقاتیں کیں اور پیغام حق پہنچایا۔قریشی صاحب ہر ہفتہ جیل خانے کے قیدیوں کو بھی تبلیغ کرتے رہے۔آپ نے سال کے آخر میں لوکل مبلغ اور اکرا چیف کی معیت میں وولٹ ریجن کا پانچ روزہ دورہ کیا اور چیفس اور پیراماؤنٹ چیفس تک پیغام حق پہنچایا اور پانچ مقامات پر کامیاب جلسے کئے۔آپ نے گورنر سٹیٹ بنک پاکستان کو دعوت استقبالیہ دی جنہوں نے جماعتی خدمات اسلامیہ کو سراہا۔محترم مولوی عبد الوھاب صاحب مبلغ شمالی غانا نے متعدد پبلک تبلیغی جلسے منعقد کئے جن میں اساتذہ کے علاوہ ڈسٹرکٹ کمشنر عملی نیز کئی دیگر اہم ملکی شخصیات نے شرکت کی۔آپکے 5 لیکچر گورنمنٹ سکول ٹمالو میں ہوئے جن سے اسلام کا پیغام نہایت احسن رنگ میں پہنچا۔آپ نے سیکنڈری سکول میں اسلام کے مختلف موضوعات پر دس تقاریر کیں جن کو اسا تذہ اور طلباء نے نہایت دلچسپی سے سنا۔تقاریر کے بعد سوالوں کے جواب دیے۔علاوہ ازیں موصوف نے گورنمنٹ ٹریننگ کالج ٹا مالے میں احمدی اور غیر احمدی میں فرق کے موضوع پر بہت کامیاب تقریر کی۔اس تقریر کے بعد اس کالج کے طلباء بکثرت دار التبلیغ آکر احمدیت کے متعلق معلومات حاصل کرتے رہے۔موصوف سے سرکاری محکمہ معلومات نے ایک انٹرویو کیا جو ایک رسالہ ناردرن ریویو میں مع جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ کے شائع ہوا۔1961ء میں جماعت احمد یہ غانا کی طرف سے صدر جمہوریہ انڈونیشیا کی خدمت میں قرآن مجید کا تحفہ پیش کیا۔علاوہ ازیں صدر صومالیہ ہز ایکسی لینسی عبداللہ عثمان، ان کی کا بینہ کے وزیر تعلیم اور دیگر اعلیٰ افسروں کے ساتھ غانا تشریف لائے۔مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم انچارج مشن و امیر جماعت غانا کی قیادت میں پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ غانا مسٹر محمد آرتھر اور قریشی فیروز محی الدین صاحب پر مشتمل وفد نے سٹیٹ ہاؤس میں ان کو خوش آمدید کہا اور جماعت احمدیہ کی اشاعت اسلام سے متعلق عالمی مساعی سے متعارف کروایا۔نیز ترجمۃ القرآن انگریزی اور دیگر اسلامی لٹریچر تحفہ پیش کیا۔جناب صدر نے جماعت احمدیہ کی اسلامی سرگرمیوں پر اظہار مسرت کرتے ہوئے مشن کی گیسٹ بک میں تحریر فرمایا:۔مجھے یہ معلوم کر کے انتہائی خوشی ہوئی کہ ایک اسلامی مشن غانا میں صرف تبلیغ ہی نہیں کر رہا بلکہ نہایت تندہی اور محنت کے ساتھ ترقی کی راہوں پر سرعت سے گامزن ہے۔اسلام کی مقدس تعلیمات ( روحانی فلسفہ و سادہ اور قابل فہم احکامات کی تبلیغ میں جمود کی وجہ با قاعدہ