تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 372
تاریخ احمدیت 372 ایسے کوٹا کے رئیس سے دو گھنٹہ تک گفتگو کی جس کے دوران انھوں نے کہا :- مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے مسلمانوں کی موجودہ بہتر حالت احمد یہ جماعت کی وجہ سے ہی ہے۔جلد 21 رئیس موصوف کو اسلامی اصول کی فلاسفی کا انگریزی ترجمہ بطور تحفہ دیا گیا جسے موصوف نے خوشی سے قبول کیا۔جنوری کے بقیہ دو ہفتے مکرم بشیر احمد صاحب شمس نے ELE-IFE میں قیام کیا اور پانچ لیکچر دیے۔ایک عیسائی نے اسلام قبول کیا آپ نے یکم تا27 فروری کا عرصہ ایک اور جگہ قیام کیا جہاں کے بشپ کولٹر پچر دیا۔اور 4 اشخاص داخل سلسلہ ہوئے۔4 مارچ کو آپ اونڈ مشن کے سیکرٹری کے آبائی گاؤں تشریف لے گئے وہاں آپ کے لیکچر میں 800 سے زائد افراد شامل ہوئے۔وہاں تین افراد داخل سلسلہ ہوئے۔8 مارچ سے 22 مارچ تک موصوف OWO میں رہے وہاں تین پبلک لیکچر دیے۔23 مارچ سے 22 اپریل تک آپ اکرا رہے۔وہاں اپنے اردگرد کے قصبات میں سات لیکچر دیے۔لیکچروں کے علاوہ چیفس ، سکول ٹیچرز، ہیڈ ماسٹر ،مسلم سکول مینیجر C۔M۔S کے ممبران سے ملاقاتیں کیں اس دوران 35 افراد داخل سلسلہ ہوئے۔موصوف 23 اپریل سے 19 مئی تک ADOF-KITI رہے وہاں 5 پبلک لیکچر دیے۔20 مئی سے 6 جولائی تک آپ نے AGBDE نامی جگہ میں قیام کیا اور اردگرد کے دیہات میں 11 پبلک لیکچر دیے۔اور چیدہ چیدہ شخصیتوں سے ملاقاتیں کیں۔وہاں کے 14 افراد داخل احمد بیت ہوئے۔اس جگہ پر قیام کے دوران 10 جون کو موصوف نے ایک گاؤں AUCHI کے تمام چیدہ چیدہ احباب سے ایک مجلس میں تین گھنٹے تک اسلامی مسائل پر گفتگو کی اور لوگوں میں لٹریچر تقسیم کیا۔آپ نے 7 جولائی سے 38۔9 جولائی تک BANIN CITY میں قیام کیا۔وہاں ایک پبلک لیکچر دیا۔دو افراد داخل سلسلہ ہوئے۔سال کے آخر میں 28 - 29 دسمبر 1961ء کو جناب مولوی نسیم سیفی صاحب کی زیر صدارت سالانہ احمدیہ کا نفرنس منعقد ہوئی آپ کے علاوہ مندرجہ ذیل اصحاب نے بھی خطاب فرمایا:۔مولوی بشیر احمد صاحب شمس۔پروفیسر فضل احمد صاحب افضل۔کرنل ڈاکٹر محمد یوسف شاہ صاحب، چوہدری رشید الدین صاحب، اقبال سیفی صاحب، حاجی فیض الحق صاحب، بعض مقامی معلمین کی تقاریر بھی ہوئیں۔ایک معزز غیر از جماعت دوست نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ :-