تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 356 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 356

تاریخ احمدیت 356 جلد 21 گوڑا (12 اپریل)۔جماعت کا پہلا جلسہ منعقد ہوا۔ہندو اور مسلمان کثیر تعداد میں شریک جلسہ ہوئے۔10 - کٹک (14 اپریل)۔خطبہ جمعہ دیا گیا۔11۔بھونیشور۔16 اپریل کو پٹیل ہال میں جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک پریس کانفرنس بلائی گئی۔نمائندگان کے سامنے جماعت کی طرف سے ایک ٹائپ شدہ میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں مختصر الفاظ میں جماعت کا تعارف کرایا گیا تھا جسکے بعد مکرم مولوی بشیر احمد فاضل نے جماعت احمدیہ کی غرض وغایت اور اس کی صلح کن تعلیم پر روشنی ڈالی اور سوالوں کے جواب دئے۔اس کے بعد شری ستیہ پر یہ مہنتی سابق لاء منسٹر اڑیسہ کی زیر صدارت جلسہ ہوا جنہوں نے صدارتی تقریر میں جماعت احمدیہ کی مساعی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: جماعت احمد یہ وہ واحد جماعت ہے جو قیام امن کے لئے اڑیسہ اور پورے ہندوستان میں عزم و استقلال کے ساتھ کوشش کر رہی ہے اور اس میں اسے نمایاں کامیابی حاصل ہو رہی ہے ہمیں چاہئے کہ ہم اس جماعت کی تقلید کریں۔“ پریس میں ذکر بھونیشور کے جلسہ کی کارروائی مقامی اخبارات پر جانتر کٹک“ اور ” کلین کا کٹک“ میں بھی شائع ہوئی۔”پر جانتر کٹک نے 18 اپریل 1961 ء کی اشاعت میں جلسہ کے ذکر کے ساتھ جماعت احمدیہ کے بارہ میں لکھا: جماعت احمدیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ ہندو، عیسائیت وغیرہ ہر ایک مذہب کا احترام کرنا۔مشرقی پنجاب کے قادیان میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے اس مذہب کو رائج کیا تھا اور اہل اسلام میں ہندوستان میں احمدیوں کی تعداد تمیں ہزار سے زائد ہے۔“ 12- جمشید پور (18 اپریل) تبلیغی جلسہ ہوا جس میں غیر احمدی بکثرت شامل ہوئے۔13 - موڑ یا گاؤں۔مرکزی وفد احمدی عقائد سے متاثر ایک رئیس شیخ محمد عثمان غنی کی خواہش پر 19 اپریل کو موڑ یا گاؤں گیا اور وہاں ایک کامیاب جلسہ کیا۔جلسے میں ایک غیر از جماعت مولوی مولوی نعمت اللہ صاحب نے مولانا بشیر احمد صاحب کی تقریر سننے کے بعد سامعین جلسہ کو کہا: ما یہ احمدی مبلغین اسلام کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔انکا ایک بیت المال ہے جسکے ذریعہ سال میں یہ لوگ سینکڑوں علماء پیدا کر لیتے ہیں اور پھر اسلام کی تبلیغ کے لئے انہیں بھجوا دیتے ہیں۔غرضیکہ احمدیہ