تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 324
تاریخ احمدیت 324 جلد 21 احمدیت ہوئے جن میں حضرت راجہ علی محمد صاحب مہتم بند و بست گجرات ، غلام مرتضی صاحب نعیم تحصیلدار ساکن جھنگ مگھیانہ اور قاضی عطاء الہی پٹواری گوجرانوالہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان حضرات نے 1904-05ء میں ( جبکہ آپ بندو بست کی ملازمت کے دوران ضلع کرنال میں متعین تھے ) سلسلہ احمدیہ میں شمولیت کا شرف حاصل کیا۔آپ اپنی خودنوشت سوانح میں لکھتے ہیں: حضرت مسیح موعود کا بہترین زمانہ اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر افسوس زیادہ وقت حضور کی صحبت نصیب نہ ہوئی۔حضور پر نور کے زمانہ میں ایسا اطمینان قلب ہوتا تھا جو کروڑوں اربوں روپوں میں بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔کوئی فکر کسی قسم کا دل میں آتا ہی نہیں تھا۔“ حضرت چوہدری صاحب حضرت مسیح موعود اور حضرت مصلح موعود کے قبولیت دعا کے کئی نشانوں کے گواہ تھے اور خود بھی احمدیت کی برکت سے مستجاب الدعوات تھے۔ملازمت کے ایام میں قرآن مجید کا کثرت سے مطالعہ اور حفظ کرنا آپ کا معمول رہا۔نومبر 1937 ء کے بعد ملازمت سے ریٹائر ہوئے مگر دعوت الی اللہ میں برابر مصروف رہے۔20 اگست 1947ء کو سکھوں نے پھگا نہ پر حملہ کر دیا جس پر آپ مع دیگر افراد خانہ ہوشیار پور کیمپ میں منتقل ہو گئے۔شروع ستمبر 1947 ء میں آپ کے بڑے بیٹے غلام اللہ خاں آپ کو ہوشیار پور کیمپ سے کراچی میں لے آئے۔دسمبر 1947 ء میں آپ چک 68 ج۔ب۔ضلع لائلپور میں رہائش پذیر ہو گئے۔1948ء میں یہیں آپ نے اپنے حالات زندگی قلم بند کئے جو بہت ایمان افراز ہیں۔اولاد 1 - الحاج ڈاکٹر غلام اللہ خاں (ر) ڈائر یکٹر بیالوجیکل ریسرچ پاکستان۔فارسٹ انسٹی ٹیوٹ تمغہ قائد اعظم“ 2۔سردار بیگم صاحبہ (اہلیہ چوہدری عبدالرحیم صاحب کا ٹھ گڑھی )۔میجر عبدالقادر خان صاحب 4 - حسن آراء بیگم 5۔منورہ (مرحومہ) سابق ناظر دیوان صدر انجمن احمد یہ وقائد عمومی مجلس انصار اللہ مرکزیہ ) اہلیہ پیر عزیز الرحمان خاں صاحب) اہلیہ بشارت احمد صاحب)