تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 262
تاریخ احمدیت 262 آدمیوں کو آپ نے 80 روپے تک بھی دلائے۔نیک محمد خان صاحب بیان کرتے ہیں ایک دفعہ میں نے عرض کیا حضرت میاں صاحب میرے پاس کوئی پیسہ نہیں۔مجھ سے یہ سنا تو ڈیرہ دون میں مجھے غلام نبی صاحب کے پاس لے گئے اور فرمایا کہ یہ جتنے روپے مانگیں میرے حساب میں انہیں دے دیا کرو۔چنانچہ اس کے بعد جب آپ کسی شخص کو بھجواتے میرے پاس پیسے نہ بھی ہوتے تو میں کہتا فلاں وقت آ کر لے جانا اور پھر میں اس کو وہاں سے لا کر دے دیتا۔آپ نے ڈاک خانہ والوں کو کہہ دیا تھا کہ میرے تمام منی آرڈر بیمہ وغیرہ نیک محمد کو دے دیا کرو۔حضرت صاحبزادہ مرزا امنصور احمد صاحب فرماتے ہیں:۔د تقسیم ملک کے بعد ہم شروع شروع میں ماڈل ٹاؤن میں رہتے تھے۔ماڈل ٹاؤن میں ایک پان فروش تھا جس کا چھوٹا سا کھوکھا بڑی سڑک کے کنارے ہوتا تھا۔میں بھی کبھی اس سے پان لیتا تھا۔ایک دن مجھے کہنے لگا وہ بزرگ جن کا کارخانہ ہے وہ آپ کے کیا لگتے ہیں۔میاں صاحب فرماتے ہیں شائد اس نے میرے نقوش سے اندازہ کیا ہو یا مجھے کبھی آپ کے ساتھ دیکھا ہو میں نے کہا کیوں کیا بات ہے۔کہنے لگا ایک دن وہ دکان پر تشریف لائے پوچھا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ کساد بازاری ہے تو جیب سے سور و پیر کا نوٹ میرے ہاتھ میں تھما کر چل دئے۔۔۔۔۔چوہدری غلام مرتضی صاحب وکیل القانون فرماتے ہیں مالی امور میں مجھے حضرت میاں صاحب کے بہت قریب ہو کر کام کرنے کا موقعہ ملا۔میرا تاثر یہی ہے جو ہمیشہ میرے قلب و دماغ پر غالب رہا ہے کہ وہ حد درجہ کے فراخ دل انسان تھے۔ان کی دریادلی کو دیکھ کر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ بخدا وہ بادشاہ تھے۔۔۔۔کئی مقدمات میں قانون انہیں حق دلاتا تھا لیکن آپ نے اخلاقی ضابطہ کو ترجیح دی اور اپنے حق کو چھوڑ دیا۔بتلائیے کہ ایسے آدمی آج کی دنیا میں عنقا ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔میں نے اس بارہ میں حضرت میاں صاحب کو بہت بلند پایا۔وہ خدا کے بہت صابر و شاکر بندے تھے۔21 حضرت مسیح موعود نے دعا کی تھی عنہ آوے انکے گھر تک رعب دجال جلد 21 حضرت میاں صاحب اس دعا کی قبولیت کا مجسم نشان تھے۔ریکروٹنگ کے دوران بڑے بڑے