تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 261
تاریخ احمدیت 261 جلد 21 قدر شیر میں تھی کہ تمام طلباء آپ کے پڑھاتے وقت ہمہ تن گوش رہتے اور وقت ختم ہونے پر یہی خواہش ہوتی کہ ابھی کچھ اور پڑھائیں۔ازاں بعد 1937 ء میں جب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ساتھ تالیف و تصنیف ک کام پر لگایا گیا تو کچھ عرصہ بعد حضرت فضل عمر نے ایک سال کے لئے حضرت میاں صاحب کو ایک اہم کام پر لگایا اور اس عرصہ میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب ناظر تالیف و تصنیف مقرر ہوئے۔دو تین دن کے بعد آپ نے مجھے بلا کر میرے کام کا جائزہ لیا اور فرمایا کہ اس وقت آپ کیا کام کر رہے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے طلباء اور جماعت کے نوجوانوں کے لئے ایک مجموعہ احادیث مرتب کرنے کا کام میرے سپرد فرمایا ہے اور آپ کی بدولت اور راہنمائی میں اس کے متعدد عنوان مقرر کئے گئے۔اب ان کے مطابق احادیث منتخب کر کے معہ ترجمہ ان میں درج کر رہا ہوں۔پچاس کے قریب احادیث جمع کر کے ان کا ترجمہ کیا ہے باقی تین صد احادیث ابھی منتخب کرنی ہیں۔حضرت میاں صاحب نے ہر ایک حدیث اس کا ترجمہ اور عنوان ملاحظہ فرمایا اور ساتھ ہی مجھے ہدایات بھی فرماتے گئے۔بعد ازاں مجھے ایک اصولی ہدایت فرمائی کہ احادیث کے انتخاب میں کسی اختلافی مسئلہ کے متعلق حدیث درج نہ کی جائے۔یہی بات ان کے ترجمہ میں مد نظر رکھیں۔ہاں ان کے پڑھنے والے پر نفسیاتی اثر ہونا چاہئے۔براہ راست کوئی اختلاف پڑھنے والے کے سامنے نہیں آنا چاہئے۔ی احادیث کا مجموعہ آپ کی زیر ہدایت مکمل ہوا۔اس کا پیش لفظ بھی آپ نے تحریر فرمایا۔اس کا نام ” کلام النبی تجویز ہوا۔یہ کتاب جماعت کے ہائی سکول کی جماعت نہم اور دہم کے نصاب میں رکھی گئی۔اس کے کئی ایڈیشن طبع ہوئے۔ایک ایڈیشن حضرت سیٹھ عبد اللہ 269 الہ دین صاحب نے سکندر آباد دکن سے شائع کیا۔200 آپ بلا شبہ دل کے بادشاہ تھے جیسا کہ حضرت مسیح موعود کو الہاما خبر دی گئی تھی اس سلسلہ میں آپکی زندگی میں بہت سے واقعات ملتے ہیں۔نیک محمد خان صاحب کی روایت ہے:۔آپ ملٹری میں تھے تو برہما کمپنی کیساتھ ATTACH تھے۔برہمی لوگ بڑے فضول خرچ تھے۔اپنی تنخواہ خرچ کر لیتے تو پھر حضرت میاں صاحب کے پاس تانتا لگارہتا۔آپ مجھے حکم دیتے اسے ہیں روپے دے دو اس کو چالیس روپے دے دو اور بعض دفعہ بعض