تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 263 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 263

تاریخ احمدیت 263 جلد 21 انگریز فوجی افسر آپ سے ملنے آتے آپ ان کی مہمان نوازی تو فرماتے لیکن انکی آمد کوکوئی غیر معمولی اہمیت نہ دیتے تھے۔اسی طرح صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کا بیان ہے کہ قادیان میں کارخانہ کے ضمن میں انگریز افسر آتے۔آپ نہایت بے تکلفی کے ساتھ ان سے بات کرتے لیکن چونکہ آپ کی گفتگو معلومات سے پر ہوتی اور نہایت درجہ مؤثر ہوتی اس لئے آپ کی بات کا افسر بھی انکار نہ کرتے تھے اور جو افسر بھی آتا آپ کا گرویدہ ہو کر جاتا اور ہمیشہ آپ کا احترام کرتا۔حضرت میاں صاحب بعض چیزوں کے موجد بھی تھے۔مثلاً آپ نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا تھا جس سے شکار کے وقت فاصلہ ماپا جا سکتا تھا اور اس کے مطابق SIGHT کوفٹ کیا جا سکتا اور نشانہ زیادہ درست اور یقینی ہوسکتا تھا اسی طرح آپنے ایک چھوٹا سا پمپ بھی ایجاد کیا تھا جسے سائیکل کے ساتھ ADJUST کر دیا جا تا اور اگر سائیکل پینچر ہو جائے تو اتر کر ہوا بھرنے کی ضرورت نہ تھی اور خود بخود سائیکل میں ہوا بھر جاتی تھی۔اسی طرح آپ نے کشتی کو سائیکل کی طرح چلانے کے لئے پیڈل سسٹم بھی ایجاد فرمایا تھا۔حضرت میاں صاحب کی گھریلو زندگی بھی نہایت قابل رشک اور پاکیزہ تھی۔صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کا بیان ہے کہ:۔273 بچوں کے ساتھ آپ کا سلوک بہت محبت اور شفقت کا ہوتا تھا۔آپ بچوں میں خود اعتمادی کا جذبہ پیدا فرماتے۔کسی چیز کے پیچھے پڑ کر اس پر زیادہ زور نہ دیتے تھے۔باوجود اس کے کہ آپ بچوں کے ساتھ سیر و تفریح اور شکار کے لئے جاتے لیکن پھر بھی آپ کا اتنا ادب تھا کہ ہم آپ سے حجاب میں باتیں کرتے تھے اور اکثر دفعہ براہ راست بات کرنے سے ہچکچاتے تھے اور والدہ صاحبہ کی وساطت سے عرض کرتے۔بچوں کو تیرنا بھی سکھاتے تھے۔آپ کو شکار کے ساتھ تیرنے کا بہت شوق تھا۔قادیان میں SWIMMING POOL آپ ہی کی توجہ اور محنت کا نتیجہ تھا۔کئی مرتبہ پکنک میں حضرت اماں جان بھی آپ کے ہمراہ ہوتیں۔لیکن حضرت نانی اماں سے آپ کا تعلق بہت تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا بہت ادب فرماتے تھے۔حتی کہ بعض مرتبہ بات بھی کرنے سے گریز فرماتے تھے۔گھر میں مسائل حاضرہ پر تبادلہ خیالات فرماتے۔اپنا اجتہاد بھی بیان فرماتے۔مگر اپنی رائے پر اصرار نہ فرماتے تھے۔آپکی ذاتی لائبریری میں قرآن مجید تمام احادیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ لغت کی کتب قاموس اور منجد بھی موجود تھیں۔میاں صاحب فرماتے ہیں تمام بچوں کی تاریخ پیدائش بھی لغت کے شروع