تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 252 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 252

تاریخ احمدیت 254 252 گیا اور آپ نے مکہ فتح ہونے پر اس کے بیٹے عتاب بن اسید کو مکہ کا حاکم مقرر کیا۔یہ قدرت خداوندی کے عجائبات ہیں جن سے روحانی دنیا معمور نظر آتی ہے اور خدا اپنے مصالح کو بہتر سمجھتا ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے در نشین والے پنج تن میں درمیانی کڑی درمیان میں سے کٹ کر آسمان کی طرف پرواز کر گئی اور ہم بہن بھائی پانچ میں سے چار رہ گئے ہیں۔2- عزیزم میاں شریف احمد صاحب کی وفات پر اب قریبا ہیں دن گزر چکے ہیں مگر ابھی تک ان کے متعلق غم وحزن اور نقصان کا احساس بڑھتا جا رہا ہے اور طبیعت میں بہت بے چینی رہتی ہے۔انکی وفات گو میں اکیس سال کی لمبی بیماری کے بعد ہوئی اور اس دوران میں کئی خطرے کے وقت آئے مگر با وجود اس کے ان کی وفات ایسی اچانک ہوئی ہے کہ اب تک انکی وفات کا یقین نہیں آتا۔دوسری طرف وہ دن بھی جلسہ سالانہ کے دن تھے جس کی گوناگوں مصروفیتوں اور ذمہ داریوں میں انکی وفات یوں ہوئی کہ گویا ایک تیز رفتار بگولہ آیا اور ہمارے سروں پر سے تیزی کے ساتھ گزر گیا اور خدا نے اپنے خاص الخاص فضل سے ہمارے دلوں میں اتنی مضبوطی اور صبر کی کیفیت پیدا کی کہ جلسہ کے سارے کام اپنی پوری شان اور پورے التزام کے ساتھ تکمیل کو پہنچ گئے۔و ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم۔مگر جب جلسہ کا ہنگامہ گزرگیا اور خدا نے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سرخرو کیا اور طبیعت نے عزیزم میاں شریف احمد صاحب کی طوفانی بیماری اور بیماری کی تکالیف اور پھر ان کی اچانک وفات کے حالات پر سوچنے اور غور کرنے کی مہلت پائی تو ( خدا ہمیں بے صبری سے بچائے اور اپنا صابر اور شاکر بندہ رکھے ) انکی جدائی پر غم وحزن کا احساس بڑھ رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پتھروں کی ایک مضبوط عمارت جو پانچ پتھروں کے باہم پیوست ہونے کی وجہ سے اپنے بانی کی وفات کے بعد چون سال سے ایک پختہ چٹان کی طرح قائم تھی اس میں سے ایک پتھر اور پتھر بھی وسطی پتھر اچانک الگ ہو کر خلا پیدا کر گیا ہے۔مگر ہم اپنے آقا محمد مصطفی امیہ کے ان پیارے الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں کہتے کہ العين تدمع والقلب يحزن و ما نقول الا ما يرضى بهِ الله و انا بِفَرَاقٍ أَخِيُنَا لمحزونون جلد 21