تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 253
تاریخ احمدیت 253 ہمارا بھائی گو پبلک میں نسبتا کم آیا مگر اس میں بہت سی خوبیاں تھیں جو حقیقتہ قابل رشک تھیں۔سادہ مزاجی ، غریب پروری ، ہمدردی ہنگی اور تکالیف میں صبر وشکر اور اس پر خدمت دین اور جماعتی اتحاد کا جذبہ اور اصابت رائے ایسی باتیں ہیں جن سے ان کی روح میں ایک خاص قسم کا جلا پیدا ہو گیا تھا۔انہوں نے اپنی طویل اور تکلیف دہ بیماری کو جس ہمت اور صبر کے ساتھ برداشت کیا وہ انہیں کا حصہ تھا۔میں تو جب گزشتہ میں بائیس سال کے حالات پر نظر ڈالتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ انہوں نے کس ہمت اور ضبط اور صبر و شکر سے ان حالات کو برداشت کیا اور کبھی ایک کلمہ ناشکری کا اپنی زبان پر نہیں لائے۔مگر افسوس کہ ہم ان کی خدمت کا حق ادا نہیں کر سکے۔بعض باتیں تحریر میں نہیں لائی جاسکتیں اور یہ باتیں اکثر لوگوں کی نظر سے اوجھل ہیں لیکن جو لوگ جانتے ہیں وہ ان کی قدر و قیمت کو پہچانتے ہیں اور ان کے دل کی گہرائیوں سے دعائیں اٹھ اٹھ کر آسمان کی طرف جاتی ہیں۔اپنی لمبی بیماری کی وجہ سے ہمارے مرحوم بھائی کے دل میں بیماروں کی ہمدردی کا خاص جذبہ پیدا ہو گیا تھا انکی وفات کے بعد ام مظفر کی ایک خادمہ نے مجھے بتایا کہ جب ام مظفر ٹانگ کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے میوہسپتال میں بیمار تھیں اور انہیں بہت تکلیف تھی تو میاں شریف احمد صاحب ان کی عیادت کے لئے قریباً روز آتے تھے۔ایک دفعہ ام مظفر احمد بہت بے چین تھیں اور ٹکور کے لئے گرم پانی کی ضرورت تھی انہوں نے اپنی خادمہ سے کہا کہ پانی گرم کر کے لاؤ اور میرے بستر میں گرم پانی کی بوتل رکھ دو۔خادمہ کو اس کام میں کچھ دیر گی تو میاں شریف احمد خود اٹھ کر اور ساتھ والے کمرے میں جا کر پانی گرم کرنے میں مدد دینے لگ گئے اور خادمہ سے کہنے لگے : ” جلدی کر ان کو تکلیف ہے۔تو نہیں جانتی کہ بیمار کا دل کتنا حساس ہوتا ہے۔" وفات سے قبل کمزوری کی وجہ سے گر گئے اور بازو میں چوٹ آئی اور کلائی کی ہڈی میں کر یک (CRACK ) آ گیا مگر با وجود اس کے جلسہ کا انتظام دیکھنے کے لئے موٹر میں گئے اور بعض ہدایات بھی دیں۔مگر چونکہ ہڈی کی چوٹ کا دل پر اثر ہوتا ہے اور وہ پہلے سے دل کے مریض تھے اور ایک سال قبل دل کا سخت حملہ ہو چکا تھا اس لئے تیسرے دن اچانک داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنی جوڑی تو ڑ کر آسمان کی طرف پرواز کر گئے۔غالبا حکیم سید پیر احمد صاحب سیالکوٹی نے ان کی وفات سے ایک رات قبل جو یہ خواب دیکھی تھی کہ حضرت جلد 21