تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 251 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 251

تاریخ احمدیت 251 مکاشفہ بھی پورا ہوا کہ:۔اس نے قاضی بنتا ہے“ میاں شریف احمد صاحب کی زندگی میں عسرویسر کے متعد د دور آئے اور ہر دور میں انہوں نے اپنا شاہانہ مزاج قائم رکھا۔وہ دل کے درویش تھے مگر مزاج کے بادشاہ تھے۔ئیسر کی حالت کا تو کیا کہنا ہے عسر میں بھی وہ اپنے شاہانہ مزاج کو قائم رکھتے تھے اور اپنے ہاتھ کو تنگی کے ایام میں بھی روکتے نہیں تھے اور غرباء کی مدد میں بھی بڑی فیاضی سے حصہ لیتے تھے۔بعض دفعہ تو ایسا ہوا کہ انہوں نے رستہ چلتے ہوئے کسی غریب کو پاس سے گزرتے دیکھا تو جھٹ جیب میں سے سو روپے کا نوٹ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔لینے والا حیرانی میں مبتلا ہو کر اپنی آنکھیں ملتا رہا۔اور یہ درویش بادشاہ خاموشی سے آگے نکل گیا۔اپنے خرچ پر کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے وہ بسا اوقات قرض میں بھی مبتلا ہو جاتے تھے مگر ان کی شاہ خرچی کے انداز میں کبھی فرق نہیں آیا۔ساری عمر اسی شاہانہ ڈگر پر قائم رہے۔غالبا انکی ولادت کے موقع پر خدائی فرشتوں نے آسمان پر انکی آئندہ زندگی کا نظارہ دیکھ کر ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کانوں میں یہ خدائی الفاظ پہنچادئے ہونگے کہ:۔وہ بادشاہ آتا ہے“ دراصل یہ چاروں الہام جو او پر درج کئے گئے ہیں عزیزم میاں شریف احمد صاحب کی ذاتی زندگی اور ذاتی سیرت کے مختلف پہلوؤں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے نازل ہوئے تھے۔مگر تعجب نہیں کہ آگے چل کر ان کی نسل میں ان مکاشفات کے بعض ظاہری پہلو بھی رونما ہوں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ جس شخص کے متعلق کوئی بات خدا کی طرف سے ظاہر کی جاتی ہے وہ بعض اوقات اس کی بجائے اسکی اولاد یا نسل میں پوری ہوتی ہے جیسا کہ ہمارے آقا آنحضرت اللہ نے اپنے ہاتھ میں قیصر و کسری کے خزانوں کی کنجیاں دیکھیں مگر آپ ان کنجیوں کے ملنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے اور یہ کنجیاں آپ کے خلفاء اور روحانی فرزندوں کے ہاتھ میں آئیں یا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے ابو جہل کے ہاتھ میں جنت کے انگوروں کا خوشہ دیکھا مگر ابو جہل کفر کی حالت میں ہی مر گیا اور یہ بشارت اس کے لڑکے حضرت عکرمہ میں پوری ہوئی۔یا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ مکہ فتح ہوا ہے اور حضور نے مکہ کا انتظام اسید کے سپرد کیا ہے مگر اسید آ پکی زندگی میں ہی فوت ہو جلد 21