تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 247
تاریخ احمدیت 247 جلد 21 مجلس تعلیم کے نام سے ایک مرکزی تعلیمی بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔آنریری انسپکٹر ان تعلیم وتربیت مقرر کئے گئے۔افتاء کمیٹی قائم ہوئی۔2 جنوری 1945 ء سے حضرت میاں صاحب ناظر دعوة و تبلیغ مقرر ہوئے۔اور جولائی 1947 ء تک اپنے فرائض بجالاتے رہے۔26 نظارت دعوة وتبلیغ کا کام ان دنوں مندرجہ ذیل شعبوں پر منقسم تھا: 1 - صدر دفتر ، 2 - نشر و اشاعت 3 طبع واشاعت الفضل، 4۔سالانہ جلسہ ، 5 ايام التبليغ 6۔-6 جلسہ ہائے سیرت النبی صلی و پیشوایان مذاہب ، 7 تبلیغ اندرونِ ہند ، 8 تبلیغ قادیان و مضافات۔نظارت دعوۃ و تبلیغ کا فریضہ جب حضرت میاں صاحب کے سپرد ہوا تو متحدہ ہندوستان میں فرقہ دارانہ اور سیاسی کشیدگی اور افراتفری عروج پر تھی تاہم تقریر وتحریر کے ذریعہ ملک میں حق وصداقت پھیلانے کا کام بدستور جاری رہا۔آپ کے چارج سنبھالتے ہی حضرت مصلح موعود کی ہدایات کے ماتحت پنجاب کے دیہاتی علاقہ میں خصوصیت کے ساتھ تبلیغی مہمات کا آغاز کیا گیا اور اس غرض کے لئے 14 دیہاتی مبلغین مختلف حلقوں میں متعین کئے گئے 20 جس کے بہت مفید نتائج ظاہر ہوئے۔246 آپ نے قادیان میں کارخانہ مینوفیکچرنگ کمپنی قائم فرمایا جس کی بنیا دسید نا حضرت مصلح موعود نے 3 جون 1946 ء کو رکھی۔اس کا رخانہ کی مشینری انگلستان سے درآمد کی گئی تھی۔اگر وہ جاری رہتا تو 247 مشرقی پنجاب میں لوہے کا سب سے بڑا کارخانہ شمار ہوتا۔20 ہجرت پاکستان کے بعد خدمات پاکستان قائم ہوا تو آپ قادیان سے ہجرت کر کے لاہور تشریف لے آئے اور ماڈل ٹاؤن میں فروکش ہوئے۔نومبر 1947 ء میں آپ انگلستان تشریف لے گئے اور شروع جولا ئی 1948ء میں واپس تشریف لائے 20۔دوران قیام آپ نے انگلستان کے فوجی انجینئروں کی کانفرنس میں انکی دعوت پر شرکت فرمائی۔اس کا نفرنس میں آپ نے رائفل کی مار دور تک کرنے اور نشانے کو زیادہ صحیح بنانے کے لئے قابل قدر مشورے دئے جو بعد میں عملی طور پر بہت فائدہ مند ثابت ہوئے۔اس پر آپ کو معقول معاوضہ کی پیشکش کی گئی مگر آپ نے لینے سے انکار کر دیا۔250 یکم اپریل 1953ء کو جبکہ لاہور میں مارشل لاء نافذ تھا آپ کی اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب