تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 246
تاریخ احمدیت 246 جلد 21 والے کہتے تھے کہ ایسا جلوس اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہ آیا تھا“۔20 آپ کی کامیاب مساعی کو دیکھ کر آپ کا وجود احرار کی نگاہ میں خار بن کر کھٹکنے لگا۔وہ جلد ہی او چھے ہتھیاروں پر اتر آئے اور 8 جولائی 1935ء کو سوچی سمجھی سازش کے تحت آپ پر لاٹھی سے قاتلانہ حملہ کر دیا۔مگر آپ خدا کے فضل سے معجزانہ طور پر بچ گئے۔20 ہوئے۔241 جولائی 1938 ء سے آپ ناظر تالیف و تصنیف اور ناظر تعلیم و تربیت کے عہدوں پر فائز نظارت تالیف و تصنیف کے سپر د حسب ذیل فرائض تھے : 1۔سلسلہ احمدیہ کی ضروریات کے پیش نظر مستقل لٹریچر تصنیف کرنایا کروانا 2۔سلسلہ احمدیہ کی طرف سے شائع ہونے والے لٹریچر پر نظر رکھنا 3 مرکز میں ایک مکمل لائبریری کا مہیا رکھنا اور اسکی توسیع 4۔ماہوار رسالہ ریویو ( اردو و انگریزی ) کا انتظام اور نگرانی 5۔بک ڈپو کا انتظام اور نگرانی حضرت میاں صاحب 1941ء تک اس صیغہ کے انچارج رہے اور آپ کی راہنمائی میں یہ نظارت نہایت خوش اسلوبی سے اپنے مفوضہ فرائض انجام دیتی رہی۔علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بہت سی قیمتی اور ایمان افروز روایات کی جمع وتدوین کا عظیم الشان کام بھی ہوا نیز تبرکات حضرت مسیح موعود کی فہرستیں مرتب ہو کر اخبار الفضل میں چھپیں مئی 1938 ء سے اپریل 1941 ء کی مطبوعہ رپورٹہائے صدرانجمن احمد یہ میں اس صیغہ کی رپورٹیں آپ کے قلم سے شائع شدہ ہیں جن سے آپ کی قابل قدر مساعی پر روشنی پڑتی ہے۔نظارت تعلیم و تربیت جولائی 1938 ء سے مئی 1944ء تک آپ کے ماتحت اپنے کاموں میں سرگرم عمل رہی یعنی سلسلہ احمدیہ کی تمام با قاعدہ مقامی اور مرکزی درسگاہوں اور بیرونی مدارس کی نگرانی اور وظائف تعلیمی و امداد کی تقسیم، کتب حضرت مسیح موعود کے امتحانات اور امتحان دینیات جماعت دہم تعلیم الاسلام ہائی سکول ، اور درس قرآن ، بیت اقصیٰ اور بیتِ مبارک کا انتظام ، جماعتوں کی تربیت کے لئے دورے اور دیگر ذرائع کا استعمال، مقامی تربیت اور متفرق کلاس کی نگرانی وغیرہ۔ان مستقل امور کے علاوہ حضرت میاں صاحب کے عہد میں بیت اقصیٰ کی توسیع ہوئی۔دارالبیعت لدھیانہ کی مرمت کی گئی اور اس کے ساتھ ایک خانہ خدا تعمیر ہوا۔منارة امسیح پر سفیدی کرائی گئی۔