تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 248
تاریخ احمدیت 248 جلد 21 کے گھر کی تلاشی لی گئی۔ان دنوں لاہور میں آپ کی اسلحہ کی ایک دوکان تھی۔بندوق آپ نے مرمت کے لئے گھر رکھی ہوئی تھی اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی بیگم صاحبہ کو نواب خاندان کی روایات کے مطابق ایک مرصع خنجر جہیز میں ملا تھا۔ان ہر دو اشیاء کی برآمدگی کے جرم میں یہ دونوں مقدس بزرگ گرفتار کر لئے گئے اور 28 مئی 1985 ء کو رہا ہوئے۔23 یکم مئی 1955 ء سے آپ ناظر اصلاح وارشاد مقرر ہوئے۔جولائی 1956ء میں انکارِ خلافت کا فتنہ اٹھا جس پر آپ نے الفضل 3 اگست 1956 ء میں ایک پُر زور مضمون کے ذریعہ احباب کو توجہ دلائی کہ وہ اس فتنہ کو چھوٹا نہ سمجھیں بلکہ بہت بڑا فتنہ سمجھیں اور دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اور ہماری اولاد کو اس سے کلیۂ محفوظ رکھے۔1956ء کے جلسہ سالانہ پر ذکر حبیب کے موضوع پر آپ کے ایمان افروز خطابات کا سلسلہ شروع ہوا جو کئی سال تک جاری رہا۔آپکی زندگی کا آخری جلسہ سالانہ 1960 تھا۔جلسہ سالانہ 1961ء کے انتظامات بھی آپ نے اپنی نگرانی میں کرائے۔بلکہ وفات سے دوروز قبل ان کا آخری بار معائنہ بھی فرمایا۔مگر افسوس 26 دسمبر 1961ء کو افتتاح جلسہ سے صرف سوا گھنٹہ پیشتر اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔اسی روز قریباً اڑھائی بجے دوپہر آپ کا جنازہ مقبرہ بہشتی کے میدان میں لا کر رکھ دیا گیا جہاں جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے ہزار ہا احباب نے ایک خاص نظام اور ترتیب کے ساتھ آپ کے مبارک اور نورانی چہرہ کی زیارت کی۔چار بجے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور پھر آپ کا جسد خا کی ہزاروں ہزار ا حباب کی نمناک آنکھوں اور افسردہ دلوں کے ساتھ حضرت اماں جان کے مزار مقدس کی چار دیواری میں سپردخاک کر دیا گیا۔انا لله و انا اليه راجعون۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے تاثرات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپکی وفات پر حسب ذیل دونوٹ سپر قلم فرمائے: 1۔عزیز میاں شریف احمد صاحب کے متعلق مرحوم کا لفظ لکھتے ہوئے (حالانکہ یہ ایک حقیقت بھی ہے اور دعائیہ کلمہ بھی) دل کو ایک بجلی کا سادھ کہ لگتا ہے اور طبیعت اس حقیقت کو فوری طور پر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔مگر حقیقت پھر بھی حقیقت ہے اور یہ ایک جگر پاش واقعہ ہے کہ ہم پانچ بھائی بہنوں کی زنجیر میں سے وسطی کڑی جس کے ایک طرف دو بھائی رہ گئے ہیں اور دوسری طرف دو بہنیں ہیں اپنی زنجیر سے کٹ کر عالم ارواح میں پہنچ