تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 217
تاریخ احمدیت 217 موسم کی مناسبت سے کبھی باہر گھاس کے میدان میں کبھی کمرے کے اندر چٹائیاں بچھوانے کا اہتمام کرتے اور بسا اوقات پہلے نمازی ہوتے۔جو مسجد میں پہنچ کر دوسرے نمازیوں کا انتظار کیا کرتا۔مختلف الانواع لوگوں کے لئے اپنی رہائش گاہ کو پانچ وقت کے آنے جانے کی جگہ بنا دینا کوئی معمولی نیکی نہیں خصوصاً ایسی حالت میں اس نیکی کی قیمت اور بھی بڑھ جاتی ہے جبکہ صاحب خانہ کا رہن سہن کا معیار خاصا بلند ہو۔معاشرتی تعلقات کا دائرہ بہت وسیع ہو۔بچیوں کی سہیلیاں ، لڑکوں کے دوست۔اپنے ملاقاتی معززین۔عزیزوں رشتہ داروں کی بار بار کی آمد ورفت کہیں مہمانوں کی کثرت سے کمروں کی تنگی۔کبھی گرمیوں کی شاموں میں لان (LAWN) کا بڑھا ہوا استعمال۔یہ سب گہما گہمی اپنے مقام پر رہی اور کبھی بھی پنجوقتہ نماز با جماعت کی ادائیگی میں مخل نہ ہوسکی۔باہر یہ اعلان کبھی نہ ہوا کہ چونکہ مستورات باہر صحن میں نکلنا چاہتی ہیں اس لئے آج یہاں نماز نہیں ہوگی۔ہاں بسا اوقات اندر یہ سننے میں آیا کہ ابھی باہر نمازی موجود ہیں جب تک وہ فارغ نہ ہو جائیں باہر نہ نکلو۔حضرت پھوپھا جان ان افراد میں سے نہیں تھے جو خود تو سختی سے نمازوں کے پابند ہوں لیکن بچوں کا اس بارہ میں خیال نہ رکھیں۔کم ہی ایسے بزرگ ہوں گے جو اتنی باقاعدگی سے بلا ناغہ بچوں کو پنج وقتہ نمازوں کی تلقین کرتے ہیں۔اور پھر تلقین بھی ایک خشک ملاں کی بے لذت متشددانہ تلقین نہیں بلکہ ایسی پر اثر تلقین جیسے دل اس کے ساتھ لپٹا چلا آیا ہو۔اگر کوئی بچه سنتی کرتا تو چہرہ پر غم اور فکر کے آثار بے اختیار ظاہر ہوتے۔اور اگر کوئی بچہ آواز پر فوراً لبیک کہتا تو ناز سے بھرے ہوئے خوشی کے جذبات آپ کے چہرہ کو شگفتہ کر دیتے۔جن دنوں پہیہ دار کرسی پر بیٹھ کر اسے گھماتے ہوئے آپ نماز کے لئے آتے تھے اس زمانہ میں نماز سے پہلے میں نے بارہا ان کو اسی حالت میں اپنے چھوٹے بچوں میں سے کسی کے کمرہ کی طرف نماز کی یاد دہانی کروانے کے لئے جاتے ہوئے دیکھا ہے۔پھر خوب تاکید کر کے مسجد میں چلے جاتے تھے۔تو بچے کے انتظار میں ایسی منتظر نظروں کے ساتھ بار بار کبھی گھر کی طرف اور کبھی گھڑی کی طرف دیکھتے تھے کہ جیسے قرار نہ آ رہا ہو۔کبھی کبھی وہیں بیٹھے بیٹھے بلند آواز سے بلاتے۔کبھی کسی آتے جاتے خادم کو کہتے کہ جاؤ میاں۔۔۔۔۔سے کہو کہ نمازی انتظار کر رہے ہیں۔پھر جب بچہ وقت پر پہنچ جاتا تو خوشی سے بعض اوقات اس طرح ہنس پڑتے جیسے کوئی لطیفہ سنا ہو۔اور اگر نہ پہنچتا تو گہری اداسی آپ کے چہرہ پر جلد 21