تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 218
تاریخ احمدیت سایه میگن نظر آتی۔190 218 حضرت ملک غلام فرید صاحب کی چشمد ید شہادت ہے کہ :- آپ پنجوقتہ نماز کے نہایت شدت کے ساتھ پابند تھے۔میں نے اپنی زندگی کے پچاس سال ان کے ساتھ گزارے۔میں ایمانداری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے آپ کی طرح تمول اور تنعم میں پرورش پایا ہو نماز کا ایسا پا بند انسان ساری عمر میں نہیں دیکھا۔وہ جہاں کہیں ہوتے تھے۔یہاں تک کہ جب وہ سیر اور بحالی صحت کے لئے پہاڑ پر بھی جایا کرتے تھے تو ان کی کوٹھی کا ایک کمرہ ہمیشہ نماز با جماعت کے لئے مخصوص ہوتا تھا۔نہایت با قاعدگی سے پانچ وقت اذان ہو کر نماز با جماعت ہوتی تھی۔انہوں نے زندگی کے آخری سال لاہور میں گزارے اور شاید سارے شہر لاہور میں صرف ان کی کوٹھی ہی تھی جہاں پانچ وقت با جماعت نماز کے علاوہ ماڈل ٹاؤن کے احباب نماز جمعہ بھی ادا کرتے تھے۔اور وہاں حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس بھی ہوتا تھا۔جن حالات میں آپ نے پرورش پائی انکو دیکھتے ہوئے انکا ایسا پا بند صوم وصلوٰۃ ہونا ان کے با خدا انسان ہونے کی ایک زندہ دلیل ہے۔66 آپ کے مشیر قانونی شیخ نور احمد صاحب ایڈووکیٹ رقمطراز ہیں:۔”خاکسار 1950ء سے لے کر متواتر بحیثیت وکیل مختلف مقدمات میں آپ کی خدمت بجالاتا رہا۔آپ قانونی پہلو رکھنے والے ہر معاملہ میں مشورہ حاصل کرنے کو بہتر خیال فرماتے تھے۔میں علی وجہ البصیرت کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے ہرامر میں اور ہر مرحلہ پر تقویٰ اللہ کو ملحوظ رکھا۔ایک دفعہ ایک کیس میں ایک بیان تحریری دینے کے متعلق میں نے ایک ایسی بات suggest کی کہ جس سے مفہوم ابہام آمیز اور مفید مطلب ہوسکتا تھا۔اور اصطلاحی لحاظ سے جھوٹ کی تعریف میں بھی نہیں آتا تھا۔مسکراتے ہوئے مگر شدت سے فرمایا ”لیکن کیا تقویٰ ہے؟“ لاشعوری طور پر دل میں رقت سی پیدا ہوگئی۔اور میں نے محسوس کیا کہ واقعی خدا تعالیٰ کے فرستادہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق فرزندی نصیب ہونا اسی کیفیت کا متقاضی ہے مگر میں نے عرض کیا کہ اس طرح بلا وجہ لاکھوں روپے کا نقصان ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔فرمانے لگے خواہ لاکھوں کا نقصان ہو۔میں تقویٰ اللہ کے خلاف کوئی اقدام کرنے کو تیار نہیں۔192 جلد 21