تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 216
تاریخ احمدیت 216 جلد 21 کے آئے ہوئے ہزار ہا احمدیوں نے شرکت کی۔اوصاف حمیده 188- حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب اللہ تعالیٰ کے ان محبوب بندوں میں شامل تھے جو ر دیا اور الہام کی آسمانی برکتوں کے حامل ہوتے ہیں۔آپ کی طبیعت سادہ اور مزاج تصنع سے پاک مگر بہت نفیس تھا۔سلسلہ احمدیہ کے فدائی اور اس کے لئے بہت غیور تھے۔جماعت کے مالی جہاد میں کمال ذوق وشوق سے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔آپ کی باتوں سے ایمان کو تازگی نصیب ہوتی تھی۔آپ کے اوصاف حمیدہ میں پانچ امور بہت نمایاں تھے 1۔غیر متزلزل ایمان ، 2۔نماز سے عشق، 3 - تقومی شعاری ، 4 - شکر گزاری ، 5- غرباء پروری اور مہمان نوازی ، 1۔حضرت نواب سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں:۔دین وایمان کے معاملہ میں ہمیشہ انتہائی ثابت قدم اور ایک مضبوط چٹان کی مثال رہے۔ایمان و اخلاص میں بالکل اپنے والد مرحوم کا نمونہ تھے۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام دعاوی پر صدق دل سے ایمان رکھنے والے خلافت سے ظاہر و باطن، دل و جان سے وابستہ رہنے والے کوئی معترض ان پر کسی قسم کا اثر ہر گز نہیں ڈال سکتا تھا۔دنیاوی چھوٹی چھوٹی باتوں میں کسی کا اثر اپنے بھولے پن سے جتنی جلدی لے لینے کے عادی تھے اتنے ہی دینی امور میں ایک ایسا پختہ پہاڑ تھے جس پر کوئی وار بھی خراش نہیں ڈال سکتا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احد صاحب (خلیفہ مسیح الرابع ایدہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں : نماز کے عاشق تھے۔خصوصاً نماز با جماعت کے قیام کے لئے آپ کا جذبہ اور جدو جہد امتیازی شان کے حامل تھے۔بڑی باقاعدگی سے پانچ وقت مسجد میں جانے والے۔جب دل کی بیماری میں صاحب فراش ہو گئے تو اذان کی آواز کو ہی اس محبت سے سنتے تھے جیسے محبت کرنے والا اپنے محبوب کی آواز کو۔جب ذرا چلنے پھرنے کی سکت پیدا ہوئی تو بسا اوقات گھر کے لڑکوں میں سے ہی کسی کو پکڑ کر آگے کھڑا کر دیتے اور باجماعت نماز ادا کرنے کے جذبہ کی تسکین کر لیتے۔یا رتن باغ میں نماز والے کمرہ کے قریب ہی کرسی سرکا کر با جماعت نماز میں شامل ہو جایا کرتے۔جب ماڈل ٹاؤن والی کوٹھی ملی تو وہیں پنج وقتہ نماز با جماعت کا اہتمام کر کے گویا گھر کو ایک قسم کی مسجد بنالیا۔پانچ وقت اذان دلواتے۔