تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 209
تاریخ احمدیت 209 پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے ان دونوں صاحبزادوں کو اس شام کے درس میں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔اس وقت قادیان کی زندگی نہایت غریبانہ زندگی تھی۔اور درس کی اس مجلس کے لئے نہایت معمولی ایک آدھ لیمپ ہوا کرتا تھا۔درس میں حاضری کی دوسری شام کو ہی میاں محمد عبد اللہ خانصاحب اپنی کوٹھی سے گیس کا ایک لیمپ لے آئے۔حضرت خلیفہ امیج اول نے جب گیس کی وہ سفید اور خوشنما روشنی دیکھی تو حضور نہایت خوش ہوئے اور بار بار فرماتے کہ آج تو ہمارا دل باغ باغ ہو گیا ہے اور نواب صاحب کے ان دونوں صاحبزادوں کو بہت دعائیں دیں۔انہی دنوں درس کی مجلس میں ایک عجیب وغریب واقعہ ہوا۔حضرت خلیفہ امسیح اول حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی صاحب کے تعلق باللہ کے کچھ واقعات سنا رہے تھے۔ان واقعات میں حضور نے یہ ذکر بھی فرمایا کہ ایک دن مجلس میں بیٹھے بیٹھے شاہ عبد الرحیم صاحب کو یہ الہام ہوا کہ تم حاضرین مجلس کے لئے دعا کرو۔تو یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔یہ بات بیان کر کے خدا کے پاک مسیح کے صدیق نے فرمایا کہ خدا نے اس وقت مجھے بھی فرمایا ہے کہ تم اپنی اس مجلس کے حاضرین کے لئے دعا کرو تو یہ سب بھی جنت میں جائیں گے۔اس کے بعد حضور نے دعا فرمائی۔اس شام کی اس مجلس کی کیفیت کا کچھ وہی لوگ اندازہ کر سکتے ہیں جو اس مجلس میں حاضر تھے۔اس مجلس میں حضرت میاں محمد عبد اللہ خانصاحب بھی شامل تھے۔اور صوفی محمد ابراہیم صاحب بھی 66 164 ان دنوں میاں صاحب مرحوم و مغفور قرآن کریم کے درسوں میں شامل ہونے کے علاوہ نہات با قاعدگی سے پانچ وقت نماز کے لئے مسجد نور میں حاضر ہوتے تھے۔اور تہجد کی نماز بھی پڑھتے تھے۔یہ ان کے بچپن کے زمانہ کے واقعات ہیں۔جلد 21 1915ء میں حضرت میاں عبداللہ خان صاحب نے میٹرک پاس کر کے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا مگر کالج کے ہوٹل کا ماحول اپنے دینی مزاج کے موافق نہ پا کر اپنے چچا نواب سر ذوالفقار علی خاں صاحب کی کوٹھی ” زرافشاں ( واقع کوئنیز روڈ ) میں قیام فرما ہوئے۔ان دنوں متعد داحمدی طلباء لاہور کے مختلف کالجوں مثلاً گورنمنٹ کالج ، اسلامیہ کالج ، میڈیکل کالج ، کمرشل کالج اور میڈیکل سکول میں تعلیم پا رہے تھے اور ان کے یکجار بنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔آپ کے داخلہ کالج کے بعد قادیان میں یہ تحریک زور سے شروع ہوئی کہ لاہور میں ایک احمد یہ