تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 208
تاریخ احمدیت 208 جلد 21 سکول کے تعلیمی دور میں حضرت میاں صاحب موصوف کو حضرت خلیفہ مسیح الاول کے اس خصوصی درس میں شرکت کا زریں موقعہ بھی میسر آیا جو حضرت حکیم الامت اپنے صاحبزادہ میاں عبدالحئی صاحب کو نماز مغرب کے بعد اپنے کچے مکان کے صحن میں دیا کرتے تھے۔اس یادگار درس میں شمولیت آپ کے ہم مکتب حضرت ملک غلام فرید صاحب کی کوشش کا نتیجہ تھی۔جس کی تفصیل ملک صاحب کے قلم سے درج ذیل ہے۔فرماتے ہیں: 163 حضرت خلیفتہ اسیح الاول کی تحریک پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے اپنے تینوں بیٹوں یعنی میاں عبد الرحمن خان صاحب مرحوم و مغفور۔حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب اور میاں عبدالرحیم خان صاحب خالد کو 1911ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل کروا دیا۔میاں محمد عبد اللہ خانصاحب اور میاں عبدالرحیم خانصاحب ساتویں جماعت میں داخل ہوئے۔جس میں ان دنوں میں پڑھتا تھا۔ان دنوں حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی معاشرت کی یہ کیفیت تھی کہ یہ تینوں بھائی اپنی کوٹھی دار السلام سے جو قصبہ قادیان سے باہر تھی سکول میں جو ان دنوں قصبہ میں تھا نہایت خوبصورت اور قیمتی گھوڑیوں پر سوار ہو کر آیا کرتے تھے۔اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ان کا ذاتی خادم بھی ہوا کرتا تھا۔سکول میں داخل ہونے کے چند دن بعد حضرت نواب صاحب نے اس وقت کے سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب جناب صدر الدین صاحب سے فرمایا کہ میرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لئے چند قابل اعتماد اور شریف طلباء کو میری کوٹھی پر بھجوا دیا کریں۔ان لڑکوں میں میرا انتخاب بھی ہوا۔اور اسی دن سے اس عاجز کے ساتھ میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کا تعلق قائم ہوا۔جسے اس شہزادے نے کمال وفا داری سے پورے پچاس سال تک نباہا۔ان دنوں مجھے سیدنا حضرت خلیفہ ایچ اول کے قرآن کریم کے درس میں شامل ہونے کا بہت شوق تھا۔حضرت خلیفتہ اسیح اول قرآن کریم کے پبلک درس کے علاوہ جو حضور مسجد اقصیٰ میں نماز عصر کے بعد قادیان کی ساری جماعت کو دیا کرتے تھے۔ایک درس اپنے کچے مکان کے صحن میں نماز مغرب کے بعد بھی دیا کرتے تھے۔میں اس درس میں بھی شامل ہوا کرتا تھا۔میں نے ایک دن حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب اور میاں عبد الرحیم خان صاحب خالد کو بھی درس میں شامل ہونے کی تحریک کی۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب جو شام کے بعد بچوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت دینے کا خیال بھی نہ کر سکتے تھے مجھے