تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 210 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 210

تاریخ احمدیت 210 جلد 21 ہوٹل ہونا چاہئے جہاں احمدی طلبہ اکھٹے رہ کر دینی ماحول میں تربیت پاسکیں۔آپ نے بھی اس تحریک کو کامیاب بنانے میں انتہائی جدو جہد کی۔آپ کی مساعی بار آور ہوئیں اور 1915ء کے آخر میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے خاص حکم سے احمد یہ ہوٹل معرض وجود میں آ گیا جس کا نام شروع میں احمد یہ بورڈنگ ہاؤس تھا۔یہ ہوٹل پہلے اسلامیہ کالج کے پاس ایک مکان میں جاری کیا گیا تھا لیکن چونکہ اس مکان میں طلبہ کو چند وقتیں تھیں اس لئے حضرت نواب محمد علی خان صاحب خود لاہور تشریف لے گئے اور اسے ملاحظہ کرنے کے بعد ممبران انجمن احمد یہ لاہور کو رائے دی کہ وہ کوئی اور موزوں جگہ تلاش کریں جس کے بعد اسے گوالمنڈی میں واقع ایک موزوں عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔167- احمد یہ ہوٹل کے پہلے سپر نٹنڈنٹ بابو عبد الحمید صاحب سیکرٹری انجمن احمد یہ مقرر ہوئے اور اسمیں روزانہ درس اور نماز با جماعت کا سلسلہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی مبلغ لا ہور کے ذریعہ جاری ہوا اور اس طرح لاہور میں بھی قادیان کے ماحول کی جھلک نظر آنے لگی۔جو نہی ہاسٹل قائم ہوا حضرت میاں عبد اللہ خاں صاحب ہوسٹل میں کوٹھی کو چھوڑ کر دوسرے احمدی طلبہ کے ساتھ رہنے لگے۔اس ابتدائی دور میں آپ کے سمیت کل پندرہ طلباء ہوسٹل میں مقیم تھے جن میں ملک غلام فرید صاحب (اسلامیہ کالج) ، صوفی محمد ابراہیم صاحب (ایف سی کالج ) ، مولوی محمد اسحق صاحب کمرشل کالج ) اور عبد العزیز خان صاحب آف سر وعہ (اسلامیہ کالج) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔صوفی محمد ابراہیم صاحب کا بیان ہے کہ: آپ تہجد اور باقاعدہ نمازوں کے پابند تھے۔غرباء کی امداد اور دوستوں کی خاطر مدارت کرنا آپ کا شیوہ تھا۔آپکی وجاہت اور نیکی کا اثر سب ملنے والوں پر تھا۔احمدی طلباء نے کالجوں میں تبلیغ کا سلسلہ بھی جاری کر رکھا تھا اور ان کے زیر اثر طلباء اکثر احمد یہ ہوٹل میں آتے رہتے تھے۔میاں صاحب ان سے بھی محبت سے ملتے اور یہ ملاقاتی نہایت اچھا اثر لے کر جاتے۔کم و بیش آپ دو سال لاہور میں رہے۔مگر صحت کچھ اچھی نہ رہتی تھی اس لئے امتحان پاس کئے بغیر قادیان واپس آگئے۔7 جون 1915ء کو آپ نے اپنی زندگی کے ایک نئے اور نہایت اہم دور میں قدم رکھا جبکہ آپ کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دامادی کا شرف حاصل ہوا۔اور حضور کی صاحبزادی حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نکاح آپ سے ہوا اور تقریب شادی 22 فروری 1917 ء کو عمل میں آئی۔اس مبارک تعلق کو آپ نے زندگی کی آخری سانس تک اپنے لئے سعادت عظمی سمجھا اور آپ کا دل ہمیشہ جذبات 170