تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 157 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 157

تاریخ احمدیت 157 نگران بورڈ کا قیام اور اس کے اہم فیصلہ جات جلد 21 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل 8 اپریل 1961 ء میں اعلان فرمایا کہ نگران بورڈ میں شامل نمائندگان مجھے اپنے مشورے سے مطلع فرما ئیں۔اسی طرح صدر صاحب صدر انجمن احمدیہ اور صدر صاحب مجلس تحریک جدید اور صدر صاحب مجلس وقف جدید بھی مجھے اپنا مشورہ بھجوا دیں۔اسی طرح ان تینوں اداروں سے متعلق کسی کے ذہن میں کوئی اصلاحی تجویز ہو یا کوئی نقص نظر آتا ہو اس کے متعلق بھی آپ کو تحریری اطلاع کی جائے۔نگران بورڈ کا پہلا اجلاس 23 اپریل 1961 ء کو تحریک جدید ربوہ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں طریق کار کے متعلق اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر کسی جماعت یا کسی دوست کو صد را انجمن احمدیہ یا مجلس تحریک جدید یا مجلس وقف جدید کے متعلق کوئی اعتراض یا نقص نظر آوے تو سب سے پہلے اسے متعلقہ صیغہ کے ناظر یا وکیل یا افسر کے نام بھجوائیں اور اگر یہ معاملہ تسلی بخش طور پر طے نہ ہو تو اس کے بعد نگران بورڈ کو توجہ دلائی جائے تا کہ بلا وجہ طول عمل نہ ہو۔اس ابتدائی اجلاس کے بعد 1961ء میں نگران بورڈ کے متعددا جلاس ہوئے۔نگران بورڈ نے جو 98 نہایت مفید اصلاحی فیصلے کئے ان میں سے بعض اہم فیصلوں کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے: 1 - مرکز سلسلہ اور بیرون میں جہاں تک ممکن ہو درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا جائے۔خصوصاً درس قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ اللہ اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سلسلہ ضرور حتی الوسع ہر مسجد میں جاری کیا جانا چاہئے۔2۔جو مبلغین تحریک جدید رخصت پر بیرون ممالک سے مرکز میں واپس آتے ہیں اگر رخصت گزارنے کے بعد وہ پاسپورٹ اور ویزا وغیرہ کے حصول کے انتظار میں فارغ ہوں اور تحریک جدید میں ان کے لئے کوئی کام نہ ہو تو صیغہ اصلاح وارشاد صدر انجمن احمد یہ یا صیغہ وقف جدید کی طرف سے عارضی طور پر منتقل کر کے ان سے مفید کام لیا جائے۔اس عرصہ میں وہ تنخواہ بدستور تحریک جدید سے لیں گے مگر سفر خرچ وغیرہ وہ صیغہ ادا کرے گا جس کی طرف وہ عارضی طور پر منتقل ہوں گے۔(فیصلہ اجلاس مؤرخہ 28 مئی 1961 ء) 3- نظارت اصلاح وارشاد کو توجہ دلائی جائے کہ اسلامی تعلیم کے خلاف بے پردگی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔بار بار پردے کے مسائل کو الفضل و دیگر اخبارات و رسائل وغیرہ کے ذریعہ تکرار کے ساتھ واضح کر کے اصلاح کرائی جائے۔نظارت امور عامہ کو لکھا جائے کہ اگر کسی احمدی خاتون کے متعلق یہ ثابت ہو کہ وہ