تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 158
تاریخ احمدیت 158 جلد 21 اسلامی تعلیم کے مطابق پردہ نہیں کرتی تو انہیں سمجھانے اور ہوشیار کرنے کے بعد ان کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ایسا ہی اگر معلوم ہو کہ احمدی والد یا احمدی خاوند اپنی بچیوں اور بیوی کو پردہ نہیں کراتا یا اس معاملہ میں اصلاحی قدم نہیں اٹھاتا تو ایک دفعہ ہوشیار کرنے کے بعد اس کے متعلق بھی مناسب کارروائی کی جائے۔(ایضاً) -4- صدرانجمن احمدیہ کو تاکیدی توجہ دلائی جائے کہ بنگال کی جماعت میں مزید مربی مقرر ہوں نیز سال میں کم از کم ایک دفعہ دو علماء کا وفد بنگال بھیجا جائے جو ایک وقت میں ایک مہینہ تک بنگال کی مختلف جماعتوں کا دورہ کر کے بیداری پیدا کرے۔(ایضاً) 5- اگر خدانخواستہ کسی جگہ دو احمدی فریقوں میں جھگڑا ہو تو امیر کو اس صورت میں بالکل غیر جانبدار رہنا چاہئے۔وہ کسی فریق کی طرف داری نہ کرے بلکہ حالات کا جائزہ لے کر مناسب صورت میں اصلاح کی کوشش کرے۔(فیصلہ اجلاس 2 جولا ئی 1961ء) 6۔صدرانجمن احمد یہ اور مجلس تحریک جدید کے صیغہ جات کا گاہے بگا ہے حسابی آڈٹ کے علاوہ کار کردگی کے لحاظ سے بھی معائنہ ہوتا رہنا چاہئے۔جو صدر صاحب صدر انجمن احمد یہ اور ناظر صاحب اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ کے صیغوں کے متعلق اور وکیل اعلیٰ تحریک جدید کے صیغوں کے متعلق کیا کریں اور حتی الوسع کوشش کی جائے کہ کم از کم تین ماہ میں ایک بار ہر صیغہ کا معائنہ ہو جائے۔(ایضاً) 7۔لاہور کے مختلف کالجوں میں اسوقت بھاری تعداد طلباء کی موجود رہتی ہے۔جو بعض صورتوں میں مختلف کالجوں کے ہوسٹلوں میں اور بعض صورتوں میں پرائیویٹ گھروں میں رہائش رکھتے ہیں۔اور انہیں وہ اخلاقی اور دینی ماحول میسر نہیں آتا جو نو جوانی کی عمر میں احمدی نوجوانوں کے لئے بہت ضروری ہے۔اس لئے صدر صاحب صدر انجمن احمدیہ کو لکھا جائے کہ وہ اس معاملہ میں ابتدائی سروے کرا کے اور خرچ اور انتظامی پہلوؤں پر غور کر کے اگر ممکن ہو تو لاہور میں احمد یہ ہوٹل کے اجراء کے لئے آئندہ مجلس مشاورت میں یہ معاملہ پیش کریں۔8۔ربوہ کے مقیم لوگوں کے لئے عموماً اور مہمانوں کے لئے خصوصا بیت المبارک ربوہ میں عصر کی نماز کے بعد روزانہ (باستثناء جمعہ کے ) قرآن مجید کے ایک رکوع کا با قاعدہ درس ہونا چاہئے۔اس کے لئے فی الحال مولوی جلال الدین صاحب شمس کو مقرر کیا جائے اور ان کی غیر موجودگی میں کوئی اور مناسب عالم یہ درس دیا کریں تا کہ قرآن کا درس بغیر ناغہ کے جاری رہے اور یہ درس ربوہ کی زندگی کا ایک اہم اور دلکش پہلو بن جائے۔(ایضاً)