تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 156 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 156

تاریخ احمدیت 156 جلد 21 غرض ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس مینار کو مضبوط کرنے کے لئے تو حید کو اپنے اندر قائم کریں۔توحید سے ساری برائیاں کٹ جاتی ہیں۔اور شرک سے ساری برائیاں جنم لیتی ہیں۔آپ تو حید کے اس درخت کو اپنی موت کے پانی سے سینچیں۔تایہ ثمر دار درخت بن جائے۔اس تقریر پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے فرمایا: عزیزم مرزا ناصر احمد صاحب نے بڑی عمدہ اور شستہ تقریر کی ہے اور وہ سب دوستوں کی توجہ کی متقاضی ہے۔95 66 کارروائی کے اختتام پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اظہار خوشنودی فرمایا کہ اکثر تقریر میں نہایت سلجھی ہوئی اور مفید تجاویز پر مشتمل تھیں اور یہی ہماری اس مشاورت کی شان ہے۔“ ازاں بعد آپ نے حاضرین کو نہایت محبت بھرے انداز میں یہ نصیحت فرمائی کہ : ” میرے اکثر مضامین تربیت کے گرد ہی چکر کھاتے ہیں۔میں یہ کہوں گا کہ جب تک تربیت نہ ہو تبلیغ بھی بریکار ہو کر رہ جاتی ہے۔اس طرح تربیت کا پہلو ایک لحاظ سے تبلیغ پر بھی غالب ہے۔اگر ہم ساری دنیا کو احمدی بنالیں لیکن احمدیوں کا نمونہ اچھا نہ ہو تو وہ احمدی ہمارے لئے بیکار ہیں۔لیکن اگر وہ نسبتاً تھوڑے ہوں لیکن ان میں ہر ایک روشنی کا مینار ہو اور اس تعلیم پر کار بند ہو جو اسلام اور احمدیت نے ہمیں سکھائی ہے تو تھوڑے بھی قرآن کریم کی اس آیت کے ماتحت آ جاتے ہیں کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة الخ۔اس لئے تربیت کا پہلو بہت مقدم ہے اس کی طرف جماعت کو توجہ دینی چاہئے اندرون ملک میں مبلغ بھی وہی اچھا ہے جو اچھا مربی ہے اور اب تو مبلغ کا نام بھی مربی رکھ دیا گیا ہے۔اور بیرون ملک کام کرنے والا مبلغ بھی وہی اچھا ہے جو اچھا مربی ہو اس کا اپنا نمونہ اچھا ہے 96 66 اور اس کا قول و فعل اچھا ہے۔اس نصیحت کے بعد حضرت میاں صاحب نے حضرت مسیح موعود کی کتاب کشتی نوح کے صفحہ 17 تا 20 پر مشتمل ایک ایمان افروز اقتباس پڑھ کر حاضرین سمیت دعا کرائی۔اس طرح شوری کی بابرکت کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔97