تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 155 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 155

تاریخ احمدیت 155 منظور نہ ہو تو فرشتہ کی تو منظور ہوتی ہے۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اول خدا کی تو حید کو اختیار کرو دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی۔كنتم اعداء فألف بين قلوبكم یا درکھو تألیف ایک اعجاز ہے۔یاد رکھو جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے۔وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔وہ مصیبت اور بلا میں ہے اسکا انجام اچھا نہیں۔میں ایک کتاب بنانے والا ہوں اس میں ایسے تمام لوگ الگ کر دئے جائیں گے جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکتے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی ہوتی ہے۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ کسی بازی گر نے دس گز چھلانگ ماری ہے دوسرا اس پر بحث کرنے بیٹھتا ہے اور اس طرح کینہ کا وجود پیدا ہو جاتا ہے۔یاد رکھو۔بغض کا جدا ہونا مہدی کی علامت ہے۔اور کیا وہ علامت پوری نہ ہوگی۔وہ ضرور ہوگی تم کیوں صبر نہیں کرتے۔جیسے طبی مسئلہ ہے کہ جب تک بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے مرض دفع نہیں ہوتا۔میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پیدا ہوگی۔باہمی عداوت کا سبب کیا ہے۔بخل ہے۔رعونت ہے۔خود پسندی ہے۔اور جذبات ہیں۔میں نے بتلایا ہے کہ میں عنقریب ایک کتاب لکھوں گا اور ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کر دوں گا جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے۔اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔جو ایسے ہیں وہ یا درکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں جب تک کہ عمدہ نمونہ نہ دکھا ئیں۔میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا۔ایسا شخص جو میری جماعت میں ہوکر میرے منشاء کے موافق نہ ہو وہ خشک ٹہنی ہے۔اس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔خشک ٹہنی دوسری سبز شاخ کیساتھ رہ کر پانی تو چوستی ہے مگر وہ اس کو سر سبز نہیں کرسکتا۔بلکہ وہ شاخ دوسرے کو بھی لے بیٹھتی ہے۔پس ڈرو۔میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔چونکہ یہ سب باتیں میں کتاب میں مفصل لکھوں گا اس لئے اب میں چند عربی فقرے کہہ کر فرض ادا کرتا ہوں۔( الحکم مؤرخہ 17 اپریل 1900 صفحہ 8-9) جلد 21