تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 804
تاریخ احمدیت 804 جلد ۲۰ 66 والے تمام اصحاب کو کہا کرتا تھا کہ خدا کی ذات اس بات پر قادر ہے کہ بجائے نو سال محنت اُٹھانے کے پہلی دفعہ ہی پاس کر دے۔چنانچہ خاکسار نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت مقدسہ میں ایک عریضہ تحریر کر کے امتحان دینے اور ملا زمت ترک کرنے کی اجازت چاہی حضرت نے فوراً باہر دروازے پر تشریف فرما ہو کر مجھے غریب کو سمجھانا چاہا کہ ملازمت کیوں چھوڑتے ہو ملا زمت چھوڑنا اچھا نہیں ہوتا خاکسار نے عرض کیا کہ حضرت اگر میں انٹرنس پاس کرلوں تو ملازمت میں مجھے خاصی ترقی مل سکتی ہے۔والا میں معمولی درجہ پرڑ کا رہوں گا۔حضرت نے مجھ سے یہ عرض سننے پر اظہار مسرت فرما کر مجھے پیار کر کے فرمایا۔اچھا جا ؤ ا جازت ہے۔میں دعا کروں گا پاس ہو جاؤ گے۔چنانچہ میں نے پرائیویٹ طور پر محنت کر کے امتحان دے دیا اور پاس ہو گیا۔6 ۵۵ ۵۶ پھر قادیان میں اپنے اساتذہ اور حضرت صاحبزادہ صاحب سے مل کر خوشخبری سنائی تو سب حیران رہ گئے اور میری بات پر یقین نہ کرتے تھے۔مگر جب میں نے حضرت اقدس سے اجازت اور دعا کرنے کا واقعہ سنا کر یو نیورسٹی پنجاب کا مطبوعہ کارڈ دکھایا تو سب فرمانے لگے کہ تم مجزا نہ رنگ میں پاس ہوئے ہوالحمد للہ۔چودھری صاحب نہایت منکسر المزاج، سلسلہ کے فدائی اور مخلص بزرگ تھے ۱۹۱۳ء میں اخبار ” بدر قادیان کے جائنٹ ایڈیٹر ر ہے کچھ عرصہ اخبار الاسلام‘ ( لاہور ) کی ایڈیٹری کے فرائض انجام دئے مگر عمر کا کثیر حصہ محکمہ تعلیم کی ملازمت میں بسر کیا۔آپ کی قابلیت انتظامی کا اتنا شہرہ ہوا کہ کئی سکولوں کے ہیڈ ماسٹر بنے۔آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔کئی مباحثات پیش آئے سب میں فتحمند رہے مد مقابل پر چھا جاتے تھے۔تقسیم ملک سے قبل اپنے وطن بیرم پور میں سلسلہ احمدیہ کی خدمات بجالاتے رہے ہجرت کے بعد قصبہ چنیوٹ ضلع جھنگ کے محلہ گڑھا گلی کتیال مکان نمبر ۷ ۳۱۸ میں پناہ گزین ہوئے اور تا دم واپسی اپنے اکلوتے بیٹے احمد علی صاحب پٹواری کے پاس رہے اور یہیں انتقال کیا۔چودھری صاحب کا مذاق شعر و سخن بھی بہت پاکیزہ تھا۔آپ کی شاعری کا آغاز حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک میں ہوا چنانچہ آپ کی بعض نظمیں اُس دور کے بدر میں چھپی ہوئی ہیں۔آپ کی اردو اور پنجابی منظومات ” ترانہ اشرف ریاض النور“ تائید حق“ سہ حرفیاں بارہ ماہ اور دیوانِ اشرف کے نام سے آپ کی زندگی میں ہی چھپ گئی وو وو 99۔66 ۵۷