تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 735
تاریخ احمدیت 735 جلد ۲۰ یہ کوشش کی گئی تھی کہ کم از کم پانچ سو احمدی زائرین کو قافلہ کی صورت میں وہاں جانے کا موقعہ مل جائے لیکن افسوس ہے کہ صرف دوسو ا فراد کے قافلہ کی اجازت مل سکی جس کی وجہ سے باقی احباب کو محروم رہنا پڑا دوسری دقت اب کے یہ ہوئی کہ قافلہ کو حسب سابق بسوں کے ذریعہ قادیان جانے کی اجازت نہ ملی مجبوراً ریل کے ذریعہ سفر کرنا پڑا جو ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔اور جس میں بسوں والا آرام اور سہولت میسر نہ تھی بلکہ کئی ایک لحاظ سے دقت اور تکلیف کا احتمال تھا بہر حال جو افراد بھی اس قافلہ کیلئے منتخب ہوئے وہ اپنے آپ کو نہایت خوش قسمت تصور کرتے تھے اور نہایت ذوق و شوق سے سفر کی تیاری میں مصروف تھے۔دفتر خدمت درویشاں ربوہ نے خطوط کے ذریعہ قافلہ میں شامل ہو نے والے تمام افراد کو جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے تھے اطلاع دے دی تھی کہ و ہ ۱۴؍ دسمبر کو قافلہ میں شمولیت کیلئے لاہور پہنچ جائیں اور اس سلسلہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کی تحریر فرمودہ ہدایات سے بھی مطلع کر دیا تھا چنانچہ ۱۴ار دسمبر کی شام تک قافلہ میں شامل ہونے والے بیشتر اصحاب جو دھامل بلڈ نگ لاہور میں پہنچ گئے جہاں پر شعبہ خدمت درویشاں کا دفتر عارضی طور پر کھول دیا گیا تھا اور زائرین کی رہائش اور خوراک کا انتظام بھی موجود تھا۔مکرم مختار احمد صاحب ہاشمی اور عبد القدیر صاحب اس دفتر میں نہات محنت اور اخلاص کے ساتھ کام کر رہے تھے جماعت احمد یہ لا ہور اور خدام الاحمدیہ لا ہور کے نمائندگان بھی ان کی مدد کیلئے موجود تھے۔ربوہ سے اس قافلہ میں شامل ہونے والے احباب کی بیشتر تعدا د بس کے ذریعہ لاہور پہنچی اور روانگی سے قبل مقامی احباب نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کی اقتداء میں اجتماعی دعا کے ساتھ انہیں رخصت کیا۔لاہور پہنچ کر اراکین قافلہ نے اس اطلاع کو بہت ہی افسوس کے ساتھ سنا کہ محترم چوہدری اسد اللہ خان صاحب امیر قافلہ اچانک فالج کے عارضہ کی وجہ سے بیمار ہو گئے ہیں ( اللہ تعالیٰ انہیں شفاء کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے ) جب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے محترم حافظ عبد السلام صاحب کو ا میر قافلہ مقر ر فر مایا۔قافلہ کے نائب امیر سردار بشیر احمد صاحب ایگزیکٹو انجنیئر مقرر ہوئے اور سیکرٹری کے فرائض چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے سپرد ہوئے اگلے روز (۱۵ / دسمبر ) صبح جو دھامل بلڈنگ کے سامنے ممبران قافلہ اور انہیں الوداع کہنے والے احباب کثیر تعداد میں جمع ہو گئے۔اس جگہ طارق ٹرانسپورٹ کی تین بسیں زائرین کوٹیشن تک