تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 725
تاریخ احمدیت 725 جلد ۲۰ تا نہ بخشد خدائے بخشده ! پہنچانے کی خاموش دوڑ دھوپ کے ضمن میں دیکھنے میں آیا ! اور کیا ہی خوش نصیب ہیں وہ احباب جنہیں ایسے مقدس ترین لمحات اور ان کی گونا گوں روحانی کیفیات میں سے گزرنے اور ان سے بے حساب طور پر فیضیاب ہو کر فائز المرام ہو نیکا انمول موقع نصیب ہوا۔این سعادت بزور بازو نیست اجتماع کی بقیہ کارروائی کے آخر میں محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدا مجلس مرکز یہ کا حسب معمول اختتامی خطاب بھی ایک خاص شان کا حامل تھا جس میں آپ نے حصول قرب الہی کی اہمیت پر نہایت عمدہ پیرائے میں روشنی ڈالی۔بعد ہ آپ نے ایک پُر سوز اجتماعی دعا کے بعد چھٹے سالانہ اجتماع کی کارروائی مکمل ہو نیکا اعلان فرمایا اور احباب کو اپنے اپنے گھر واپس جانے کی اجازت دی۔الغرض انصار اللہ کا اجتماع دُعاؤں، ذکر الہی اور انابت الی اللہ کے ایک ایسے رُوح پرور ماحول میں منعقد ہوا اور اول سے آخر تک فضا میں ایک ایسا روحانی کیف چھایا رہا اور طبیعتوں میں ایک نئے آسمان کے نیچے اور ایک نئی زمین پر زندگی بسر کر نے کا احساس اس قدر غالب رہا اور ہر آن روحانی کیف و سرور کے ایسے تجرعے پینے کی سعادت نصیب ہوتی رہی کہ جن کی صحیح کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔بلا مبالغہ یہی تاثر ہر اُس شخص کا ہے جسے امسال اجتماع کی برکات سے بہرہ اندوز ہونے کی سعادت ملی چنانچہ بہت سے احباب نے اجتماع سے واپس جانے کے بعد خطوط کے ذریعے اپنے تاثرات کا اظہار کیا جن میں سے مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ایسے خطوط کے بعض اقتباسات ذیل میں درج ہیں۔(۱) محترم جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور خارجه صدر انجمن احمد یہ پاکستان ربوہ تحریر فرماتے ہیں۔دو تین دن اکثر تقریروں کے دوران ایک ایسا روحانی سماں بندھا رہا کہ گویا حضرت مسیح موعود ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہماری روحوں سے مخاطب ہیں۔لاہور میں بھی بعض دوستوں نے میرے اس تاثر کی تصدیق کی اور بتایا کہ دوسرے دوستوں نے بھی بعینہ اسی کیفیت کا اظہار کیا ہے۔ایک صاحب نے تو یہ تجویز پیش کی کہ ایسے اجتماع سال میں چار دفعہ منعقد ہونے چاہئیں تا پژمردہ دل زندہ ہو جائیں اور زنگ ڈھل دُھل کر دلوں کے آئینے صیقل ہوتے رہیں۔“