تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 724
تاریخ احمدیت 724 جلد ۲۰ نتیجے میں رونما ہونے والے عظیم الشان انقلاب کی اہمیت کو جس ولولہ انگیز پیرائے میں واضح فرمایا اور دلوں کو ہلا کر روحوں کو بیدار کرنے والے جس جذبہ و جوش کے ساتھ احمدی مجاہدین اسلام کے محیر العقول کارناموں پر روشنی ڈالی اس کی یاد دلوں سے کبھی محو نہیں ہو سکتی۔تقریر کیا تھی زور خطاب کا ایک شاہکا رتھیں جذب واثر کا ایک مرقع تھی، قربانی وایثار کے جذبے کو ابھارنے کا ایک انتہائی مؤثر ذریعہ تھی۔سچ یہ ہے کہ وہ ایک آسمانی قر نا تھی جو اس زور اور شان سے پھونکی گئی کہ قلوب انسانی کی اقلیم اور اس کے در و دیوار لرز اُٹھے خفتہ سے خفتہ دل بھی بیدار ہوئے بغیر نہ رہے انسان تو انسان ماحول کا ذرہ ذرہ ایک نئی زندگی سے معمور ہو کر متحرک نظر آنے لگا۔بشاشت انشراح اور کیف و سرور نیز قربانی وایثار اور جوش عمل کے اس نادر ماحول میں محترم صاحبزادہ صاحب موصوف نے جب نہایت پُر جوش و پر شوکت لہجہ کے ساتھ سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کا زندگی بخش وروح پرور پیغام پڑھا جو تحریک جدید کے نئے سال کے واسطے مالی قربانی کے مطالبہ پر مشتمل تھا تو سامعین کی حالت ہی کچھ اور ہو گئی۔محترم صاحبزادہ صاحب موصوف کے پُر زور خطاب کے نتیجے میں زندگی کی جو لہر پیدا ہوئی تھی وہ یم بے کراں کی صورت میں ٹھاٹھیں مارتی ہوئی دکھائی دینے لگی اور سامعین چندہ تحریک جدید کے نئے سال کے وعدے لکھوانے کے لئے یوں بے تاب نظر آنے لگے کہ گویا وہ اذنِ عام کے منتظر ہیں یعنی یہ کہ اجتماع میں ہی وعدے پیش کرنے کی اجازت مل جائے۔اگر اس وقت اس کی اجازت دیدی جاتی تو ایک دوسرے پر سبقت لے جانی کا وہ پر کیف منظر دیکھنے میں آتا جو اپنی مثال آپ ہوتا۔وعدوں ہی کی بھر مار نہ ہوتی بلکہ اسٹیج پر نوٹوں اور نقدی کے انبار لگ جاتے اور انہیں سنبھالنا اور اسم وار محسوب کرنا مشکل ہو جا تا۔بہر حال یہ بات مقصود نہ تھی اور نہ پروگرام میں اس کیلئے کوئی گنجائش ہی موجود تھی اس لئے آخری اجلاس کی بقیہ کا رروائی حسب پروگرام جاری رہی۔ہر چند کہ روح پرور دینی نظموں اور مختلف درسوں اور تقریروں کا سلسلہ جاری تھا تا ہم احباب ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کے انتہائی قابلِ رشک و قابل قدر جذبے سے کام لیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے رقعوں پر اپنے وعدوں کی رقوم لکھ لکھ کر اسٹیج پر مکرم وکیل المال صاحب کو برا بر پہنچا رہے تھے۔کیسے پر کیف تھے وہ لمحات جن میں احباب کو محترم صدر صاحب مجلس مرکز یہ کے ایسے ایمان افروز خطاب اور حضور ایدہ اللہ کے جاں بخش و روح پرور پیغام سے مستفید ہونے کا موقع ملا ! اور کیسا پُر لطف تھا وہ منظر جو وعدہ جات کے رُفعے اولین فرصت میں وکیل المال صاحب تک