تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 722
تاریخ احمدیت 722 جلد ۲۰ و ظاہری و باطنی کا خزینہ تھے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا کوئی گوشہ ایسا نہ تھا کہ ان درسوں میں جس پر ایمان افروز پیرائے میں روشنی نہ ڈالی گئی ہو اور کوئی دل ایسا نہ تھا جو حسب استطاعت اس کے نتیجہ میں آسمانی نور سے منور نہ ہوا ہو۔علی الخصوص ۲۸ تا ۳۰ /اکتوبر کی دو درمیانی را تئیں جذب و تاثیر کا ایک شاہکا رتھیں جبکہ دو تہائی حصہ رات گزرنے کے بعد چار بجے علی صبح خاص التزام کے ساتھ نماز تہجد ادا کی گئی اور دُنیا میں غلبہ اسلام اور سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اطال الله بقاء کی صحت کاملہ عاجلہ اور درازی عمر کیلئے انتہائی درد اور خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں مانگی گئیں سجدوں میں کی جانے والی دعا ئیں اثر و جذب میں ڈوبا ہوا ایک ایسا منظر پیش کر رہی تھیں جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر صادق آتا تھا۔ے شور کیسا ہے ترے کوچے میں لے جلدی خبر خون نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا پھر دونوں روز نماز تہجد اور نماز فجر کے بعد علی الصبح ذکر حبیب علیہ السلام کی جو مجلسیں منعقد ہوئیں وہ جذب و تاثیر اور روحانی کیف و سرور کے لحاظ سے ایک خاص شان کی حامل تھیں ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقاء میں سے حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب، حضرت مرزا برکت علی صاحب حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور حضرت مولوی عبدالواحد صاحب میر تھی نے عشق الہی ، عشق رسول اور عشق مسیح موعود سے سرشار ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیبہ کے چشم دید واقعات سے متعلق اپنی نہایت ایمان افروز روایات ایک خاص جذبے کے ساتھ سُنا ئیں۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی اور حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل بوجہ نا سازی طبع تشریف نہ لا سکے تھے اس لئے اُن کی تحریر کردہ روایات پڑھ کر سُنائی گئیں۔اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مد ظلہ العالی اور حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہ جہانپوری اور حضرت خدا بخش صاحب مومن کی روایات کے ریکارڈ خود انہی کی آواز میں سُنائے گئے۔خوش بخت رفقاء مسیح موعود کی ایمان افروز روایات سن کر سامعین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ بھی علی قدر مراتب عشق الہی، عشق رسول اور عشق مسیح موعود کی لگن سے سرشار ہو کر فرط مسرت میں جھوم اُٹھے۔نماز تہجد اور نماز فجر میں آہ وزاری اور پھر معاً بعد خود رفقاء حضرت مسیح موعود کی زبانی حضور علیہ السلام کے معمولات اور روح پرور مجالس کے تذکار مقدس اور ان کا اثر و جذب میں ڈوبا ہوا بیان وہ رنگ لایا کہ یوں محسوس ہونے لگا کہ کثافتیں دُور ہو رہی ہیں، سینے ڈھل رہے ہیں اور رحانی