تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 49
تاریخ احمدیت 49 ہم لوگوں نے احمدیت قبول کی ہے۔ہمارے پاس کوئی نہیں جو ہمیں دینی اور دنیاوی تعلیم دے سکے۔اس لئے ہمیں ایک معلم کی سخت ضرورت ہے۔“ ایک اور جماعت کے پریذیڈنٹ فرماتے ہیں :- ” ہمارے گاؤں میں احمدیت تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آگئی تھی۔اس لحاظ سے یہ ابتدائی جماعتوں میں سے ہے لیکن دیہاتی ماحول میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے نہ تربیت صحیح رنگ میں ہوسکتی ہے نہ ہمارے بچوں کی۔“ سلسلہ کے ایک مشہور عالم اپنے دورہ کے تاثرات لکھتے ہوئے ایک جماعت سے متعلق لکھتے ہیں :- ” میں نے غور وفکر کے بعد آپ کو لکھا ہے۔خدا کے لئے اس ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچائیں۔للہ اس طرف توجہ فرما ئیں۔“ غرضیکہ علماء سلسله امراء ضلع و مقامی اور مختلف عہد یداران جماعت کی طرف سے کثیر تعداد میں ایسے خطوط موصول ہوتے رہتے ہیں۔ایک دوسرا منظر : - یہ تو تصویر کا ایک منظر ہے۔اصلاح اور آرائش سے پہلے کا۔آئیے اب ہم دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے وقف جدید انجمن احمدیہ کو کس حد تک یہ توفیق عطا فرمائی ہے کہ بدنمائی کے ان عارضی داغوں کو دھوکر احمدیت کے لازوال حسن کو اپنی اصل تابانی کے ساتھ اجاگر کرے۔جب ہم اس زاویہ سے صورت حال پر نظر کرتے ہیں تو ایک دلکش منظر ہمارے دلوں کو تسکین دیتا ہے جس کی بعض جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں۔اس دلکش روحانی انقلاب اور اسی پاک تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے ایک مخلص دوست تحریر فرماتے ہیں :- حضرت مصلح موعود کا خاص طور پر شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ حضور نے اس مبارک تحریک وقف جدید کا آغاز فرما کر ہم کمزوروں پر احسان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ حضور کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔معلم صاحب نے بہت اچھے رنگ میں بچوں کو احمدیت کی تعلیم سے روشناس کرایا۔ہم سے اپنی بیت جلد ۲۰