تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 50
تاریخ احمدیت 50 جلد ۲۰ الذکر بنانے کا وعدہ لیا۔ان کے کام کو دیکھ کر میرے دل میں جوش پیدا ہوا کہ آئندہ میں اپنی آمد کا ۱/۴ حصہ دین کی خدمت کے لئے دیا کروں گا۔اللہ تعالیٰ میری اس قربانی کو قبول فرمائے۔آمین۔“ پھر ایک جماعت کے پریذیڈنٹ صاحب اپنے معلم سے متعلق لکھتے ہیں :- د معلم کے آنے سے ہماری جماعت کی حالت بدل گئی۔جماعت نے ہر تحریک میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔۱۲ کس سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں۔“ وو پھر ایک اور جماعت کے سیکرٹری صاحب اصلاح و ارشا در قمطراز ہیں :- ” جب سے معلم صاحب تشریف لائے ہیں جماعت احمد یہ تعلیمی اور تبلیغی سرگرمیوں میں فزوں تر ترقی کر رہی ہے۔اصلاح و ارشاد کے کام میں 66 نہایت خوش کن کام کا آغاز ہو چکا ہے۔اکثر لوگ بہت متاثر ہیں۔“ ایک اور جماعت کے سیکرٹری مال اپنے جذبات تشکر کا ان الفاظ میں اظہار فرماتے ہیں آپ نے معلم صاحب کو بھیج کر ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچا لیا۔خدا کے فضل سے صرف ایک ہفتہ میں جماعت کے بچوں کی کایا پلٹ گئی۔عرض ہے کہ ہم چندوں میں اضافہ کی کوشش کریں گے اس لئے معلم کو مستقل طور پر رہائش کا حکم فرمائیں۔“ معلم کے طریق کار سے متعلق ایک اور جماعت کے پریذیڈنٹ صاحب کا تاثر یہ ہے :- ”چھوٹے بڑے گھر اور ڈیروں پر جا کر راستوں میں کھڑے ہو ہو کرلوگوں کو بلایا اور پیغام حق پہنچانے کی کوشش کی۔جماعت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوشیار ہو گئی ہے۔عورتوں میں بھی درس ہوتا ہے۔“ ایک قصباتی جماعت کے پریذیڈنٹ اپنے معلم کے شب و روز کے مشاغل کی تفصیل یوں بیان فرماتے ہیں :- فجر کی نماز کے بعد قرآن مجید ناظرہ اور باترجمہ پڑھایا جاتا ہے مغرب کے بعد درس تفسیر کبیر عشاء کے بعد کتب عربی اور صرف پڑھائی جاتی ہیں۔مولوی صاحب جانفشانی اور کوشش سے ہم کو اب قرآن مجید پڑھار ہے