تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 642 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 642

تاریخ احمدیت 642 جلد ۲۰ متروکہ کی حیثیت سے حکومت نے قبضہ کر لیا تھا۔لیکن اب یہ عمارتیں جماعت احمدیہ کے حق میں واگزاشت کر دی گئی ہیں۔جس وقت میں نے حضرت میرزا صاحب کے بیت الفکر بیت الدعاء بیت الریاضت مسجد نور مسجد اقصیٰ اور منارۃ المسیح کو دیکھا تو ان کی وہ تمام خدمات سامنے آ گئیں جو تحفظ اسلام کے سلسلہ میں ایک غیر منقطع جد و جہد کے ساتھ ہزاروں مصائب جھیل کر انہوں نے انجام دی تھیں اور جن کے فیوض اس وقت بھی دنیا کے دور دراز گوشوں میں جاری ہیں۔جس وقت میں قادیان پہنچا اتفاق سے ایک جرمن احمدی و کیم ناصر بھی یہاں مقیم یہ ایک درویش صفت انسان ہیں جو مہینوں سے احمد یہ جماعت کے مختلف مرکزوں اور اداروں کے سیاحانہ مطالعہ میں مصروف ہیں۔میں ان کو دیکھتا تھا اور حیرت کرتا تھا کہ جرمنی ایسے سرد ملک کا باشندہ ہندوستان کی شدید گرمی کو کس طرح خوش دلی سے برداشت کر رہا ہے۔لیکن جب میں نے ان سے گفتگو کی تو معلوم ہو ا کہ ان کو شدائد سفر کا احساس تک نہیں، سچ ہے۔ع عشق ہر جامی برد ما را به سامان می برد میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے عیسوی مذہب چھوڑ کر اسلام کیوں قبول کیا ؟ تو اس کا سبب انہوں نے اسلام کی بلند اخلاقی تعلیم ظاہر کیا جس کا علم انہیں سب سے پہلے جرمنی کی جماعت احمدیہ کو دیکھ کر ہوا تھا۔یہ بلا د مغرب و افریقہ میں جس جوش و انہماک کے ساتھ خدمتِ اسلام میں مصروف ہے اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن پاک کے تراجم حد درجہ سلیقہ واہتمام کے ساتھ شائع کر رہے ہیں۔چنانچہ انگریزی جرمنی اور ان کے اس عزم و ولولہ کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔میں نے یہاں سے رخصت ہوتے وقت اس قطعہ زمین کو بھی دیکھا جہاں حضرت میرزا غلام احمد صاحب آسودہ خواب ہیں اور ان کی وہ تمام مجاہدانہ زندگی سامنے آ گئی جس کی کوئی دوسری نظیر مجھے اس دور میں تو کہیں نظر نہیں آتی۔کیست کز کوشش فرہاد نشاں باز و ہد مگر آں نقش که از تیشه بخارا ماند