تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 643
تاریخ احمدیت 643 جلد ۲۰ وو ایک معز ز غیر احمدی دوست کا خط اور مدیر نگار علامہ نیاز فتچوری کے احمدیت سے متعلق مسلسل تائیدی علامہ صاحب کا خیال افروز جواب اٹھانے سے جہاں احمد یہ جماعت میں اُن کے لئے جذبات تشکر پیدا ہوئے اور ہر طرف خوشی کی ایک لہر دور گئی وہاں غیر از جماعت حلقوں میں دوز بر دست رد عمل پیدا ہوئے۔ایک طبقہ احمدیت کی نسبت گہرا مطالعہ کرنے لگا مگر ایک طبقہ میں بے چینی کے آثار ظاہر ہو گئے۔جناب سید نصیر حسین صاحب سہارنپوری دوسرے طبقہ میں شامل تھے جنہوں نے یہ مضامین پڑھ کر آپ کو ایک تنقیدی خط لکھا جس میں پروفیسر الیاس برنی صاحب کی ایک کتاب پڑھنے کا مشورہ بھی دیا۔علامہ موصوف نے اکتوبر ۱۹۶۰ ء کے پرچہ میں یہ خط اور اس کا جواب شائع کر دیا جو نہایت خیال افروز تھا ذیل میں خط اور جواب دونوں کو بجنسہ درج کیا جاتا ہے۔سید نصیر حسین سہارنپور احمدی جماعت اور الیاس برنی کچھ زمانہ سے آپ احمدی جماعت کی طرفداری میں اظہار خیال کر رہے ہیں اور اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان سے بہت متاثر ہیں لیکن شاید آپ کو معلوم نہیں کہ وہ غیر احمدی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں۔وہ اس حد تک متعصب ہیں کہ تمام مسلمانوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات بھی نا جائز سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔وہ اپنے سوا سب کو کافر کہتے ہیں اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اب رہا میرزا غلام احمد صاحب کا دعویٰ مہدویت و مسیحیت و نبوت۔سو اس کی بابت میں مشورہ دونگا کہ آپ جناب الیاس برنی کی کتاب ” فتنہ قادیانیت کا مطالعہ فرمائیے۔اس کے پڑھنے پر آپکو معلوم ہو جائے گا کہ مرزا صاحب کے دعوے کتنے لغو و باطل تھے۔نگار اس میں شک نہیں میں احمدی جماعت سے کافی متاثر ہوں اور اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اس وقت ان تمام جماعتوں میں جو اپنے آپکو مسلمان کہتے ہیں صرف احمدی جماعت ہی ایک ایسی جماعت ہے۔جس نے صحیح معنی میں اسلام کی حقیقت کو سمجھا ہے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ آپ کیا ساری دنیا نے اسلام کو مخصوص عقائد میں محدود کر دیا ہے۔اور اس سے ہٹ کر کبھی یہ غور کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی کہ اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کے عروج کا تعلق صرف عقیدہ سے نہ تھا بلکہ انوار وکردار اور حرکت و عمل سے تھا۔محض یہ عقیدہ کہ اللہ ایک ہے اور رسول برحق اپنی جگہ بالکل بے معنی بات ہے اگر