تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 641
تاریخ احمدیت 641 جلد ۲۰ یہی وہ مختصر سی جماعت ہے جس نے ۴۷ ء کے خونیں دور میں اپنے آپکو ذبح وقتل کے لئے پیش کر دیا اور اپنے ہادی و مرشد کے مسقط الراس کو ایک لمحہ کے لئے چھوڑ نا گوارا نہ کیا۔موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے آستان یار سے اُٹھ جائیں کیا ؟ 66 یہی وہ جماعت ہے جس نے محض اخلاق سے ہزاروں دشمنوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور اُن سے بھی قادیان کو دارالامان تسلیم کرا لیا۔یہی وہ جماعت ہے جو ہندوستان کے تمام احمدی اداروں کا سررشتہ تنظیم اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہے اور یہی وہ دُور افتادہ مقام ہے جہاں سے تمام اکناف ہند میں اسلام و انسانیت کی عظیم خدمت انجام دی جا رہی ہے۔آپ کو یہ سُن کر حیرت ہو گی کہ صرف پچھلے تین سال کے عرصہ میں انہوں نے تعلیم اسلامی، سیرت نبوی، ضرورت مذہب خصوصیات قرآن وغیرہ متعد د مباحث پر ۴۳ کتابیں ہندی، اُردو انگریزی اور گورمکھی زبان میں شائع کیں اور ان کی ۴۴۰۵۰۰ کا پیاں تقریباً مفت تقسیم کیں۔اسی طرح تعلیمی وظائف پر جن میں مسلم و غیر مسلم طلبہ دونوں برابر کے شریک ہیں۱۹۵۰ء سے ۱۹۶۰ء میں اس جماعت نے ۳۱ ہزار روپیہ صرف کیا۔خود قادیان میں ان کے تین مدر سے قائم ہیں۔دو مڈل اسکول لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے اور تیسر ا مولوی فاضل کے نصاب تک۔ان کے علاوہ تیرہ مدر سے ان کے ہندوستان کے مختلف مقامات میں ہیں جن پر جماعت کا ہزاروں روپیہ صرف ہو رہا ہے۔اسی سلسلہ میں ایک اور بڑی خدمت جو صدقہ جاریہ کی حیثیت رکھتی ہے وہ قادیان کا شفا خانہ ہے اس میں ۱۹۴۸ء سے اس وقت تک ۳۴۶۳۰۰۰ مریضوں کا علاج کیا گیا جن میں ۳۰ فی صدی مسلمان اور ۷۰ فیصدی غیر مسلم تھے۔یہ ہیں وہ چند خدمات جماعت احمدیہ قادیان کی جن سے متاثر ہوکر ۱۹۴۸ء سے لے کر اس وقت تک قریب قریب ڈیڑھ لاکھ آدمیوں نے یہاں کے حالات کا مطالعہ کرنے کی تکلیف گوارا کی۔یہاں میں نے کالج اور دارالاقامہ کی ان عظیم الشان عمارتوں کو بھی دیکھا جنہیں بانی تحریک احمدیت نے بڑے اہتمام سے طیار کروایا تھا۔تقسیم ہند کے بعد ان پر جائیداد