تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 640
تاریخ احمدیت 640 اب احمدی جماعت کی جیتی جاگتی تنظیم عمل کو دیکھ کے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا دل پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دا خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا کیونکہ عالم اسلامی میں آج یہی ایک ادارہ ایسا ہے جو جلد ۲۰ ع دعوت پر گے و نوائے کند اور اسلام کا مفہوم میرے ذہن میں دعوتِ برگ و نوا کے سوا اور کچھ نہیں۔لوگ منزل تک پہنچنے کے لئے راہیں ڈھونڈھتے ہیں۔برسوں سرگرداں رہتے ہیں اور ان میں صرف چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو منزل کو پا لیتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اُنہیں میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی بھی تھے۔سو اب یہ فکر و جستجو کہ وہ کن راہوں سے گزر کر منزل تک پہنچے بالکل بے سود ہے۔اصل چیز راہ پیمائی نہیں بلکہ منزل تک پہنچ جانا ہے۔اور اگر میں احمدی جماعت کو پسند کرتا ہوں تو صرف اسی لئے کہ اس نے اپنی منزل پالی ہے اور یہ منزل وہی ہے جس کی بانی اسلام نے نشاندہی کی تھی۔اس سے ہٹ کر میں اور کچھ نہیں سوچتا اور نہ سوچنے کی ضرورت۔میرا قادیان آنا بھی اسی سلسلہ کی چیز تھی یعنی جس کی عملی زندگی کا ذکر میں سنتا چلا آ رہا تھا اسے آنکھوں سے بھی دیکھنا چاہتا تھا۔ہر چند میں بہت کم وقت لے کر یہاں آیا ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ نتیجہ تک پہنچنے کے لئے یہ قلیل فرصت بھی کم نہ تھی۔کیونکہ اس جماعت کی زندگی ایک ایسا گھلا ہوا صحیفہ حیات ہے جس کے مطالعہ کیلئے نہ زیادہ وقت کی ضرورت ہے نہ کسی چون و چرا کی۔اسی طرح ان کی دفتر می تنظیم بھی گویا ایک شفاف آئینہ ہے جس میں زنگ کا نام تک نہیں۔یکسر خلوص و اخلاق یکسر حرکت و عمل۔قادیان میں احمدی جماعت کے افراد جو درویشان قادیان کہلاتے ہیں، دوسو سے زیادہ نہیں۔جو قصبہ کے ایک گوشہ میں نہایت اطمینان وسکون کے ساتھ اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور ان کو دیکھ کر کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا یک چراغ ست دریں خانہ که از پر تو آں ہر کجا می نگری، انجمنے ساختہ اند