تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 47
تاریخ احمدیت 47 جلد ۲۰ جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں وہ اپنی زندگیاں براہِ راست میرے سامنے وقف کریں تا کہ میں ان سے ایسے رنگ میں کام لوں کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کرسکیں اور مجھ سے ہدایتیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں۔“ الفضل مورخہ ۶ رفروری ۱۹۵۸ء ) چنانچہ اس اولین اعلان کے تقریباً چھ ماہ بعد اس مبارک سکیم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۳ جنوری ۱۹۵۸ء کو باقاعدہ ایک انجمن کی بنیاد ڈالی جس کا نام وقف جدید انجمن احمد یہ مقرر فرمایا۔اس اولوالعزم امام کی قیادت میں جس سے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی کہ وہ جلد جلد بڑھے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی یہ تحریک جس کا آغاز چھ سال پہلے چند کارکنان یعنی دس معلمین اور تین مرکزی کارکنان کے ساتھ ایک مستعار کمرہ میں ہوا تھا اب خدا کے فضل سے ایک با قاعدہ مضبوط انجمن کی صورت میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے طول وعرض میں وسیع پیمانے پر خدمت ( دینِ حق ) بجالا رہی ہے۔اور اس کے کارکنان کی تعداد۱۳ سے بڑھ کر ۸۹ تک جا پہنچی ہے اور تقریباً ۷۰ مراکز مختلف مقامات پر فعال شکل میں قائم ہیں۔اسی طرح امسال خدا تعالیٰ کے فضل سے مرکزی دفتر کی مستقل عمارت بھی زیر تعمیر ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ جلد مکمل ہونے والی ہے۔(۱) تربیت و اصلاح:- یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ۲۰،۱۵ سال میں بعض کام کی نوعیت ناگزیر حالات کی وجہ سے ہماری بہت سی دیہاتی جماعتوں کی تربیتی حالت قابل تشویش حد تک رو بہ انحطاط ہو چکی تھی۔حتی کہ بعض ایسی بڑی بری دیہاتی جماعتیں بھی جو ایک عرصہ پہلے اپنے خلوص تقویٰ اور دینداری میں مثالی حیثیت رکھتی تھیں وہ اپنا پہلا سا بلند اور قابلِ ستائش دینی معیار قائم نہ رکھ سکیں۔ان کی مرض کی نوعیت اور شدت اور وسعت سے متعلق ہم جس قدر بھی غور کریں اسی قدر ہمارا دل اس یقین سے بھر جاتا ہے کہ وقف جدید کی تحریک دراصل ان ہی جماعتوں کے شدید تربیتی تقاضوں کا ایک مؤثر عملی جواب ہے اور ان کثیر دینی مسائل اور مشکلات کا ایک عمدہ حل ہے جو ہماری نسبتاً کم علم اور دور افتادہ جماعتوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔اس مختصر سی پیشکش میں اس امر کی تو گنجائش نہیں کہ کوئی تفصیلی تربیتی جائزہ پیش کیا جائے