تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 46
تاریخ احمدیت فصل ششم 46 46 جلد ۲۰ وقف جدید کا بجٹ مجلس مشاورت میں ۱۹۶۴ء کا سال وقف جدید کے نظام مالیات کا ایک نہایت اہم سنگ میل ہے کیونکہ اس میں پہلی بار مجلس مشاورت کے سامنے اس کا سالانہ بجٹ پیش ہوا جو ایک لاکھ پچاس ہزار روپیہ آمد وخرچ پر مشتمل تھا۔نمائندگان شوری کے لئے بجٹ وقف جدید پر غور کرنے کا پہلا موقع تھا۔اس اہمیت کے پیش نظر ناظم ارشاد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے وقف جدید کی اہمیت ، مقاصد اور خدمات سے نمائندگان شوری کو متعارف کرانے کے لئے ایک مفصل مضمون سپر د قلم فرمایا جو’ وقف جدید انجمن احمدیہ کے زیر عنوان ایک کتابچہ کی صورت میں شائع ہوا جس کا مکمل متقن ذیل میں درج کیا جاتا ہے :- بسم الله الرحمن الرحيم هوالنـ نحمده و نصلى على رسوله الكريم و على عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اصر تحریک وقف جدید انجمن احمد یہ اپنے ساتویں سال میں داخل ہورہی ہے اور اس لحاظ یہ سال انجمن کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ امسال اس انجمن کا بجٹ بھی صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید انجمن احمدیہ کے طریق پر سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مجلس شوری میں پیش ہو رہا ہے۔اس اہم موقعہ پر نمائندگان شوری کی خدمت میں انجمن ہذا کی مساعی کا طائرانہ نظر میں ایک مختصر سا خاکہ پیش ہے۔ور جولائی ۱۹۵۷ء کو سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عیدالاضحیہ کے موقعہ پر جماعت کے سامنے اس نئے وقف کا خاکہ پیش کرتے ہوئے فرمایا : - میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح