تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 617 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 617

تاریخ احمدیت فصل چهارم 617 جلد ۲۰ جماعت احمدیہ کوحقیقی عید منانے کی تحریک ماری ۱۹۲۰ء کو حضرت مصلح ۲۹ / دنیائے احمدیت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔موعود نے خطبہ عید الفطر کے دوران احادیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم عید کے موقعہ پر عید گاہ میں آتے اور جاتے ہوئے اور پھر عید گاہ میں تشریف رکھتے وقت بھی بڑی کثرت کے ساتھ تکبیر پڑھا کرتے تھے کہ الله اكبر۔الله اكبر۔لا اله الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بتاتی ہے کہ مومنوں کی حقیقی عید اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور اس کی عظمت کے بیان کرنے میں ہی ہے۔پس اگر ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عظمت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔اس کے نام کو پھیلا دیں۔اس کی بڑائی کو ثابت کر دیں۔اور اپنی تمام کوششیں اور مساعی اس غرض کے لئے وقف کر دیں۔کہ خدا تعالے کا نام بلند ہو۔تو یقیناً ہماری عید حقیقی عید کہلا سکتی ہے۔لیکن اگر ہمیں اپنے فرائض کا احساس نہ ہو۔اور خدا تعالیٰ کی توحید کی اشاعت اور اس کی عظمت کے قیام کے لئے اسلام جن قربانیوں کا ہم سے تقاضا کرتا ہے۔ان قربانیوں کے میدان میں ہمارا قدم سُست ہو تو پھر ہماری عید صحیح معنوں میں عید نہیں کہلا سکتی۔پس آج میں اپنی جماعت کے تمام دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اس عید کو حقیقی رنگ میں منانے کی کوشش کرنی چاہیئے اور اس ظاہری عید کو اُس عظیم الشان روحانی عید کے حصول کا ایک ذریعہ بنانا چاہیئے جس میں ساری دنیا خدا تعالیٰ کی بڑائی کی قائل ہو جائے اور ( دین حق ) کے نیچے جمع ہو جائے اگر دنیا میں خدا تعالیٰ کی بڑائی قائم نہ ہو۔تو ہماری عید کوئی عید نہیں۔لیکن اگر اس کی بڑائی قائم ہو جائے۔اور دنیا محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو جائے۔تو اسی میں ہماری حقیقی عید ہے۔