تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 618 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 618

تاریخ احمدیت 618 جلد ۲۰ جامعہ احمدیہ کی نئی جامعہ احمدیہ کا مرکزی ادارہ عرصہ سے ایک ایسی وسیع اور شایان شان عمارت سے محروم تھا جو اُس کی عمارت کا سنگ بنیاد ضروریات کو صحیح رنگ میں پورا کر سکے ۲۹/ مارچ ۱۹۶۰ء کو عید الفطر کی پُر مسرت تقریب کے موقع پر ہی ۵ بجے شام اس عظیم الشان درسگاہ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔جس میں رفقائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دیگر بزرگان سلسلہ کے علاوہ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے ناظر و وکلاء صاحبان۔افسران صیغہ جات، ربوہ کے تعلیمی اداروں کے ممبران۔اسٹاف اور بہت سے دیگر مقامی احباب شامل تھے۔سب سے پہلے حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے قادیان کے مقامات مقدسہ کی ایک اینٹ اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر دیر تک دعا کی۔دعا کے دوران آپ کی زبان پر یہ شعر جاری ہوا۔ما غریباں خاک بوسان حرم این چنیں برکات کے یا بدامم دعا سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے اس اینٹ کو بنیاد میں اپنے ہاتھ سے نصب فرمایا آپ کے بعد بعض اور ممتاز رفقاء اور دیگر بزرگان سلسلہ نے اینٹیں نصب کیں۔ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔اے (آکسن ) پرنسپل تعلیم الاسلام کا لج ، حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلیٰ حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب شامل تھے۔ان اصحاب کے علا وہ میاں عبدالرحیم احمد صاحب وکیل التعلیم، سید میر داؤ د احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ اور اساتذہ جامعہ میں سے ماسٹر عطا محمد صاحب اور صاحبزادہ ابوالحسن صاحب قدسی ابن حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے بھی ایک ایک اینٹ رکھی۔مزید براں جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو بھی بنیاد میں اینٹیں رکھنے کا موقع دیا گیا۔چنانچہ جن طلباء کے حصہ میں یہ سعادت آئی ان میں غانا مغربی افریقہ کے عبد الوہاب بن آدم صاحب ابراہیم محمد مینو صاحب اور مشرقی افریقہ کے یوسف عثمان صاحب۔ابو طالب صاحب۔عمر جمعہ صاحب۔احمد قادری صاحب اور چین کے محمد عثمان صاحب شامل تھے۔بعد ازاں حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیلی نے اجتماعی دعا کرائی۔جس میں جملہ حاضرین شامل ہوئے دعا سے فارغ ہونے کے بعد جامعہ کی طرف سے تمام حاضرین کی خدمت میں