تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 608 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 608

تاریخ احمدیت 608 جلد ۲۰ سابق وطن حافظ آباد گیا۔تو دو تین گھنٹہ کے لئے ربوہ بھی آؤں گا۔کیونکہ پنڈی بھٹیاں کے راستہ حافظ آباد سے ربوہ زیادہ دور نہیں۔میں ۲۰ فروری ۱۹۶۰ء کی رات کو پاکستان کے لئے دہلی سے روانہ ہوا۔اور ۲۱ / کی دو پہر کو لاہور پہنچا۔تو ۲۳ / فروری کو گیانی عباد اللہ مجھ سے ملنے کے لئے لا ہور نیڈوز ہوٹل میں آئے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ میں ان کے ساتھ ربوہ چلوں۔مگر میں نے کہا کہ میں کل کراچی جا رہا ہوں۔وہاں سے واپس ہونے کے بعد ربوہ ضرور آؤں گا۔میرے پاکستان کے دورہ کے حالات بہت ہی طویل اور دلچسپ ہیں۔جو اس اخبار کے دس پندرہ صفحات سے کم جگہ میں نہیں آ سکتے اس لئے میں ان حالات میں سے اب صرف وہ لکھتا ہوں جس کا تعلق احمدی جماعت کے دوستوں سے ہے۔میں جب کبھی بمبئی، کلکتہ یا کسی دوسرے شہر میں جا تا ہوں تو کوشش کرتا ہوں کہ میری موجودگی کا میرے دوستوں کو علم نہ ہو اور میں آخری روز تمام دوستوں سے مل لیا کرتا ہوں چنانچہ میں جب کراچی پہنچا تو میں نے انتظام کیا تھا کہ میں ایسی جگہ قیام کروں جس کا کسی کو علم نہ ہو حالانکہ وہاں سے حضرت جوش ملیح آبادی و غیره در جنوں نے زور دیا تھا کہ میں جب کبھی وہاں جاؤں تو ان کے ہاں قیام کروں کراچی میں ایک پوشیدہ جگہ پر قیام کرنے کے بعد میں پہلے روز حضرت جوش ملیح آبادی صاحب اور بھیا احسان الحق سے ملا۔کیونکہ ان سے نہ ملنے کی صورت میں مجھے ذہنی کوفت محسوس ہوتی ان سے ملنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ اور لوگوں کو بھی کراچی میں میری موجودگی کا علم ہو گیا جمعہ کے روز کراچی کی احمدیوں کی مسجد میں جب نماز ہو چکی تو ایک احمدی نے دوسرے احمدی سے ذکر کر دیا کہ دیوان سنگھ کراچی میں ہے یہ بات چیت شیخ اعجاز احمد ( جو آج کل وہاں غالباً یونائٹڈ نیشنز کے فور ڈیپارٹمنٹ میں کسی اعلیٰ عہدہ پر ہیں اور دو ہزار روپیہ کے قریب تنخواہ پاتے ہیں ) نے بھی سُن لی انہوں نے پوچھا کہ دیوان سنگھ کہاں ہے تو اطلاع دینے والے نے کہا کہ اس کا اسے کچھ علم نہیں شیخ اعجاز احمد اور ان کے دو تین دوستوں نے کار میں میری تلاش شروع کی۔یہ دو گھنٹہ کے قریب مختلف جگہوں سے دریافت کرتے رہے اور آخر ان کو غالباً مسٹر ظفر احمد ( جو پاکستان کے تمام دورہ میں میرے ساتھ تھے ) کے گھر سے علم ہوا۔کہ میں فلاں بلڈنگ میں مقیم ہوں۔چنانچہ یہ حضرات وہاں پہنچ گئے اور کچھ عرصہ بات چیت کرنے کے بعد انہوں نے خواہش کی کہ میں احمدی جماعت کے ہیڈ کوارٹر میں ان کے ساتھ چائے پیئوں۔میں نے بہت کوشش کی اور بار بار کہا