تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 609 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 609

تاریخ احمدیت 609 جلد ۲۰ کہ میں دن کے وقت کچھ نہیں کھایا کرتا مگر یہ نہ مانے اور شام کو مسٹر نذیر مجھے اپنی کار میں وہاں لے گئے۔اس پارٹی میں پاکستان کی مرکزی گورنمنٹ کے ایک درجن کے قریب بڑے بڑے حکام موجود تھے کیونکہ احمدیوں میں آپس میں بہت ہی محبت اور اخلاص ہے۔چائے کی میز پر مختلف باتیں ہوتی رہیں اور یہ پُر لطف صحبت ایک گھنٹہ کے قریب جاری رہی اور اس کے بعد میں جتنے روز کراچی میں رہا مسٹر نذیر کی کار میرے لئے وقف رہی۔اس کے اگلے روز میں اپنے ایک مرحوم احمدی دوست سید انعام اللہ شاہ ایڈیٹر دور جدید کے گھر گیا۔وہاں مرحوم کی بیوی اور ایک لڑکی طلعت موجود تھیں۔یہ لڑ کی ایم اے میں پڑھتی ہیں۔میرا وہاں خلاف توقع پہنچنا ان کے لئے انتہائی حیرانی اور مسرت کا باعث ہوا۔کیونکہ ان کو علم نہ تھا کہ میں کراچی میں ہوں۔مرحوم سید انعام اللہ شاہ کی یہ لڑ کی بہت ہی ذہین ہے مرحوم کی دولڑکیاں شادی شدہ ہیں۔وہ اپنے سسرال میں تھیں اور لڑکا محمود انعام سرکاری ملازم ہے وہ اپنے دفتر تھا۔یہ ماں بیٹی ایسی مسرت محسوس کر رہی تھیں جیسے ان کو کوئی گمشدہ شے مل گئی ہو مجھے وہاں بیٹھے ابھی دو تین منٹ ہوئے تھے اور مرحوم انعام اللہ شاہ کے اخلاص اور محبت کے متعلق باتیں ہو رہی تھیں۔تو طلعت دوسرے کمرہ میں گئی اور وہاں پھلوں کا رس اور خشک اور تازہ پھل جمع کرنے میں مصروف ہو گئی اور یہ تمام سامان ایک چھوٹی میز پر لے آئی میں دن کو کچھ نہیں کھایا کرتا۔اس روز یکم رمضان تھی اور پہلا روزہ تھا میں نے مذاقاً کہا ” تم روزہ داروں کے روزہ توڑنے کے گناہ کی مرتکب اور معاون ہو رہی ہو“۔لڑ کی کھل کھلا کر ہنس پڑی۔میں نے پھلوں کا رس پی لیا اور تھوڑی دیر بیٹھ کر اور باتیں کر کے واپس چلا آیا۔رات کو جب دوستوں سے ملنے کے بعد اپنی قیام گاہ پر پہنچا تو مجھے ظفر صاحب نے بتایا کہ شام کو محمود انعام اپنے گھر پہنچے اور ان کو میرے آنے کا علم ہوا تو وہ اپنی دوسری بہنوں کے ساتھ قیام گاہ پر ملنے آئے تھے اور یہ بغیر ملے واپس جانا نہ چاہتے تھے مگر ظفر صاحب سے اس حلفیہ وعدہ پر کہ یہ مجھے ان کے مکان پر پھر لائیں گے وہ واپس چلے گئے۔میں اگلے روز مغرب کے بعد پھر ان کے مکان پر گیا۔ظفر میرے ساتھ تھے میں نے اطلاع کر نے کے لئے ظفر صاحب کو اوپر بھیجا۔تو تینوں لڑکیاں اور محمود بھاگ کر نیچے آگئے یہ مجھے اپنے ساتھ اوپر لے گئے وہاں ایک لڑکی کے شوہر بھی موجود تھے ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب دلچسپ باتیں ہوئیں۔ان لوگوں نے جس اخلاص اور محبت کا سلوک کیا۔اسے میں زندگی میں کبھی بھول نہ سکوں گا۔۲۸ را در ۲۹ فروری کو دوستوں سے ملتا رہا اور یکم مارچ کی شام کو چناب 66