تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 607
تاریخ احمدیت 607 جلد ۲۰ وو ہاں سے کسی دیانتدار شخص کو ملازمت کے لئے بھیج دیں۔کیونکہ میرا تجربہ تھا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ تو خدا سے ڈرتے ہیں۔مگر احمدی جماعت کے لوگ خدا سے اس طرح بد کتے ہیں۔جیسے گھوڑ اسا یہ سے بد کتا ہے۔اور خدا سے خوفزدہ ہونے کے باعث یہ بد دیانت ہو ہی نہیں سکتے۔چنانچہ میں نے دفتر ریاست میں کئی احمدی مقرر کئے اور دفتر کے ان احمدی حضرات میں سے دو اصحاب کی زندگی کے واقعات تو مجھے اب تک یاد ہیں۔ایک صاحب انشاء اللہ خان اکو نٹنٹ مقرر کئے گئے جو کئی برس دفتر ریاست میں رہے اور آج کل یہ پاکستان کی کسی بہت بڑی فرم میں آڈیٹر ہیں۔یہ مسٹر انشاء اللہ خان کبھی دفتر کا بغیر ٹکٹ کے پوسٹ کارڈ بھی استعمال نہ کرتے۔اور اگر کوئی ضرورت ہوتی تو ڈاکخانہ سے پوسٹ کارڈ منگا کر لکھتے اور دوسرے صاحب کا نام یاد نہیں۔یہ لڑکا بہت ہی شریف اور نیک تھا۔یہ دفتر سے کچھ روپیہ ایڈوانس لیتا رہا۔اس کے ذمہ کچھ روپیہ باقی تھا تو یہ دفتر سے غائب ہو گیا۔کچھ پتہ نہ تھا کہ یہ کہاں ہے چھ ماہ کے بعد اس کا منی آرڈر اور خط پہنچا۔جس میں اس نے لکھا کہ وہ ذاتی حالات سے مجبور ہو کر چلا آیا اور وہ رقم واپس کی جاتی ہے جو اس کے ذمہ ما ہوار ایڈوانس تھی۔اس کا ایسا کرنا اس کے بلند کریکٹر ہونے کا ثبوت تھا۔ورنہ راقم الحروف کو نہ تو رقم یا دتھی اور نہ ہی اس کا کوئی پتہ ہی معلوم تھا۔احمد یوں اور راقم الحروف کے تعلقات صرف اس حد تک جاری تھے۔کیونکہ مجھے آج تک کبھی قادیان جانے کا اتفاق نہیں ہوا حالانکہ یہ میری ہمیشہ خواہش رہی کہ میں ان کے ہیڈ کوارٹر کے حالات ا پنی آنکھوں سے دیکھوں۔ان معمولی تعلقات کی موجودگی میں احمدی حضرات کئی بار ظلم کا شکار ہوئے۔اور ”ریاست“ نے ظلم کے خلاف آواز پیدا کرنا اپنا فرض اور ایمان سمجھا کیونکہ ریاست، ظلم کے خلاف آواز پیدا کرنے کے لئے عالم وجود میں آیا تھا اور خدا کا شکر ہے کہ وہ اپنے آخری لمحوں تک اپنے اس شعار پر قائم رہا چنانچہ جوں جوں ان پر کئے جا رہے مظالم کے خلاف ریاست میں آواز پیدا کی جاتی میرے اور ان کے درمیان اخلاص کے تعلقات زیادہ ہوتے چلے گئے ان کے بعض لیڈروں سے خط و کتابت بھی ہوا کرتی۔اور میری خواہش تھی کہ اگر میں کبھی پاکستان جاؤں تو اس نئی آبادی ربوہ کو بھی دیکھوں جہاں کہ یہ لوگ قادیان سے تباہ ہو کر بطور مہاجر آباد ہوئے ہیں۔میں نے جب پاکستان جانے کا قصد کیا تو دوسرے دوستوں کے علاوہ ایک احمدی بزرگ گیانی عباداللہ ( جو سکھ مذہب اور سکھ تاریخ پر ایک اتھارٹی تسلیم کئے جاتے ہیں ) کو بھی لکھا کہ اگر ممکن ہوا اور میں گوجرانوالہ اور اپنے